چینی شخص کے گلے میں 8 سال سے پھنسی چاپ اسٹک کامیاب آپریشن سے نکال لی گئی

چینی شخص کے گلے میں 8 سال سے پھنسی چاپ اسٹک کامیاب آپریشن سے نکال لی گئی

(ویب ڈیسک ) چینی شخص کے گلے میں 8 سال تک پھنسی دھاتی چاپ اسٹک، آخرکار کامیاب آپریشن سے نکال لی گئی۔

چین کے شہر ڈالیان میں ایک شخص 8 سال تک اپنے گلے میں پھنسی ہوئی دھاتی چاپ اسٹک کے ساتھ زندگی گزارتا رہا، جسے بالآخر ڈاکٹروں نے نکال دیا۔ زیادہ تر لوگ اپنے گلے میں 12 سینٹی میٹر لمبی دھاتی چیز چند منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتے، لیکن اس چینی شخص نے 8 سال اسی حالت میں گزار دیے۔

46 سالہ مسٹر وانگ حال ہی میں لیاؤننگ صوبے کے ڈالیان میونسپل سینٹرل اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے گلے میں شدید درد ہونے کی شکایت کی۔ ایکس رے کے بعد ڈاکٹرز یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے گلے میں 12 سینٹی میٹر لمبی دھاتی چیز پھنسی ہوئی ہے۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک دھاتی چاپ اسٹک ہے جسے انہوں نے آٹھ سال پہلے غلطی سے نگل لیا تھا۔

8 سال قبل، مسٹر وانگ کھانا کھاتے ہوئے غلطی سے مکمل دھاتی چاپ اسٹک نگل گئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم اسپتال کی ویب سائٹ کے مطابق وہ اس وقت شراب نوشی کے عادی تھے۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں گلے میں گھٹن اور وقفے وقفے سے درد محسوس ہوا، لیکن سانس لینے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔

ابتدائی طور پر اسپتال نے وقتی طور پر درد کم کرنے کے لیے سادہ علاج کیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چاپ اسٹک نکالنے کے لیے گردن میں چیرا لگانا ضروری ہوگا۔ چونکہ اس سرجری میں خطرات شامل تھے، اس لیے مسٹر وانگ نے اسے کروانے سے انکار کر دیا اور اسی حالت میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔

اگلے 8 سال تک وہ گلے میں ہلکی تکلیف اور غیر معمولی احساس کو برداشت کرتے رہے اور اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ تاہم حال ہی میں صبح کے وقت ان کے گلے میں شدید درد شروع ہو گیا۔ درد کم کرنے والی ادویات سے افاقہ نہ ہونے پر وہ دوبارہ اسپتال علاج کے لیے پہنچے۔

تفصیلی معائنے میں گلے کے اندر زخم، خون بہنے یا پیپ بننے کی کوئی واضح علامت نہیں ملی، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اگر چاپ اسٹک مزید عرصہ گلے میں رہتی تو یہ اردگرد کے ٹشوز، خون کی نالیوں اور جھلیوں کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔

میڈیکل ٹیم نے ایک کم تکلیف دہ (minimally invasive) سرجری کا منصوبہ بنایا، جس میں گردن پر چیرا لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ڈاکٹر ہوانگ وی پینگ نے احتیاط سے اس دھاتی چاپ اسٹک کو آہستہ آہستہ نکالا، اور بالآخر 12 سینٹی میٹر لمبی چاپ اسٹک کو مکمل طور پر باہر نکال لیا گیا۔

چند دن کی نگرانی کے بعد مسٹر وانگ کے گلے کی تکلیف اور درد میں واضح کمی آ گئی اور سوجن بھی ختم ہونے لگی۔

یہ عجیب و غریب کیس   اسپتال کی ویب سائٹ پر عوام کے لیے ایک تنبیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی چیز غلطی سے جسم میں داخل ہو جائے تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ اسے زیادہ دیر تک نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

Watch Live Public News