ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ویر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے صوبے میں سیلاب کے باعث ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیلی فونک رابطے کے دوران مریم نواز نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی بھی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پنجاب حکومت کے پی کے ساتھ کھڑا ہے اور عوام کی مدد کیلئے تیار ہے۔
علی امین گنڈاپور نے مریم نواز کی جانب سے تعزیت کرنے اور صوبے کے عوام کی مدد کی پیشکش پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے صوبے کے کئی اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 307 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں 23 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 17 مرد، 4 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچایا جن میں سے 63 گھروں کو جزوی جبکہ 11 گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
اتھارٹی کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں جہاں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ریلیف سرگرمیوں کے لیے صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ ان میں سے بونیر کے لیے 15 کروڑ روپے، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کے لیے 10، 10 کروڑ روپے جبکہ سوات کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ سیلاب سے صوبے کے 11 اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی تعداد 3 ہزار 817 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 32 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو سرگرمیوں میں 545 اہلکار اور 90 گاڑیاں اور کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔
بیرسٹر سیف کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا جہاں 159 افراد جاں بحق اور 100 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ باجوڑ میں 20 افراد جاں بحق اور ایک لاپتا ہے جبکہ بٹگرام میں 11 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں اور 10 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ مزید جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔