ویب ڈیسک: آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں آسٹریلوی تحقیقاتی اداروں نے باضابطہ طور پر بھارتی حکومت سے رابطہ کر کے معلومات کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے حملے میں ملوث افراد کے پس منظر، ممکنہ روابط اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے بھارتی حکام سے سوالات کیے ہیں تاکہ واقعے سے متعلق حقائق واضح کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ 14 دسمبر کو سڈنی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بین الاقوامی اور سوشل میڈیا پر حملہ آوروں کے پس منظر سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے تھے۔ بعض رپورٹس میں واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم بعد ازاں تحقیقات کے نتیجے میں یہ دعوے متنازع قرار پائے۔ حملے میں ملوث ایک شخص کے قریبی دوست کے مطابق نوید اکرم نامی حملہ آور کا تعلق بھارت سے تھا، ان کے والد بھارتی نژاد جبکہ والدہ اطالوی پس منظر رکھتی تھیں۔
پاکستانی حکام اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق سوشل میڈیا پر جس شخص کو شیخ نوید کے نام سے دہشت گرد قرار دیا جا رہا تھا، وہ دراصل نوید اکرم نہیں تھا۔ بعد میں خود شیخ نوید نے بھی سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ گمراہ کن مہم کے باعث ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط معلومات نے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ انہیں سنگین سیکیورٹی خدشات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
آسٹریلوی پولیس کے مطابق یہ دہشت گرد حملہ سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈائی بیچ پر یہودیوں کی ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں دو حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور باپ بیٹا تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں 50 سالہ باپ موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ 24 سالہ بیٹے کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت ساجد اکرم کے نام سے ہوئی ہے جبکہ نوید اکرم سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ دس برس سے اسلحہ رکھنے کا لائسنس رکھتا تھا اور ایک گن کلب کا رکن بھی تھا۔ اس کے قبضے سے چھ ہتھیار برآمد کیے گئے جبکہ جائے وقوعہ کے قریب سے دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی ملا ہے۔
آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہو چکی ہے جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے 6 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد ملک بھر میں ایک روزہ قومی سوگ منایا گیا اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے شدت پسند تنظیم داعش سے وفاداری کا عہد کیا تھا اور ان کی گاڑی سے داعش کے جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے واقعے کو ملکی تاریخ کا ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گن لائسنس ہمیشہ کے لیے نہیں ہونے چاہئیں اور حکومت مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
دریں اثنا، واقعے کے دوران شہری احمد الاحمد کی بہادری بھی سامنے آئی، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک مسلح حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش کی اور کئی قیمتی جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔ احمد خود بھی فائرنگ کے دوران زخمی ہوئے، تاہم ان کی جرات کو آسٹریلوی عوام، حکومت اور عالمی میڈیا کی جانب سے سراہا گیا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ نے احمد الاحمد کی بہادری کو غیر معمولی قرار دیا جبکہ عوام کی جانب سے ان کے لیے مالی امداد بھی جمع کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سڈنی دہشت گردی واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور واقعے کے محرکات، پس منظر اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مکمل حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔