(ویب ڈیسک ) سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ دونوں کمیٹیوں کے درمیان طے پایا ہے کہ حکومتی کمیٹی سات دن کے اندر اپوزیشن کے مطالبات پر باضابطہ تحریری موقف پیش کرے گی۔
جمعرات کو سینیٹر عرفان صدیقی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے آزادانہ ماحول میں ملاقات کا مطالبہ کیا ہے، جس کی تائید حکومتی کمیٹی نے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہوا اور دونوں کمیٹیوں سے مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس کی تاریخ کا اعلان سپیکر ایاز صادق کریں گے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں۔
تحریری مطالبات:
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے تحریری مطالبات میں چیف جسٹس کی سربراہی میں دو کمیشنز کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا ہے کہ 2017 کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت دو تحقیقاتی کمیشن قائم کیے جائیں۔ ان دونوں کمیشنز میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یا تین حاضر سروس جج شامل ہوں، جنہیں تحریک انصاف اور حکومت کے مابین متفقہ طور پر سات دن کے اندر نامزد کیا جائے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے تحریری مطالبات سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے۔
مطالبات میں کہا گیا ہے کہ پہلا کمیشن عمران خان کی رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کے طریقہ کار اور دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کرے۔
پاکستان تحریک انصاف نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ ’اگر ہمارے مطالبے کے مطابق ان کمیشنز کو اصولی طور پر تسلیم نہ کیا گیا اور فوری طور پر قائم نہ کیا گیا تو ہم مذاکرات جاری رکھنے سے قاصر رہیں گے۔‘
سینیٹر عرفان صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کی 27 یا 28 تاریخ تک جواب دیں گے، کمیٹی میں 7 جماعتوں کی نمائندگی ہو گی ، تمام پارٹیاں اپنی لیڈرشپ یے پاس جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کیا قانون آئین ضابطے ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ جو معاملات عدالتوں کے اندر ہوں اس پر کمشن بنایاجائے، ہم ابھی انکار بھی نہیں کر رہے اور اقرار بھی نہیں کر رہے ، یہاں تک کہا جاتا ہے عدالت میں کیسز کی سماعت کے دوران بات نہ کی جائے، ان کے پندرہ ٹی او آرز عجیب و غریب ہیں۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر کمیشن بنتا ہے تو پھر ٹی او آرز طے کیے جائیں گے، انہیں 42 دن لگے ہیں مطالبات کو مرتب کرنے میں، الزامات کی فہرست کو مطالبات سے نتھی کر دئیے ہیں ، یہ دستاویز کم ہے حکومت پر چارج شیٹ زیادہ ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل کا پھاٹک آزادی یو سلب کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے، ہم نے کہا ہے کہ آزادانہ ماحول دینے کی کوشش کریں گے ، ہم چاہتے ہیں کہ ماحول سازگار رہے،31 جنوری کو حائل نہیں ہونا چاہیے کوئی تاریخ ڈیڈ لائن اہم نہیں ہوتی۔