ویب ڈیسک: تھائی لینڈ میں پولیس نے ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے درجنوں پادریوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر کے ان کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ کی۔
بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے مطابق، خاتون جسے " مس گالف" کے نام سے جانا جا رہا ہے، نے گزشتہ تین برسوں میں کم از کم نو پادریوں سے 385 ملین باتھ (11.9 ملین امریکی ڈالر) وصول کیے۔
80,000 سے زائد ویڈیوز اور تصاویر ضبط
پولیس ترجمان کے مطابق، ملزمہ کے گھر کی تلاشی کے دوران 80 ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں جنہیں وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ رقم کا بڑا حصہ آن لائن جوا کھیلنے پر خرچ کیا گیا۔
معاملہ کیسے سامنے آیا؟
یہ اسکینڈل اس وقت منظرِ عام پر آیا جب جون 2024 میں بنکاک کے ایک عبادت خانے کے سربراہ پجاری نے اچانک راہبیت چھوڑ دی۔ تفتیش پر انکشاف ہوا کہ مس گالف نے ان سے تعلق قائم کیا اور بعد ازاں بچہ پیدا کرنے کا دعویٰ کر کے سات ملین باتھ بطور ’چائلڈ سپورٹ‘ طلب کیے۔
پولیس کے مطابق، دیگر راہب بھی اسی طرح کی بلیک میلنگ کا شکار ہوئے۔ انہوں نے اس طریقۂ واردات کو ملزمہ کا "معمول" قرار دیا۔
سنگھا کونسل کا ردعمل اور اصلاحات کا عندیہ
یہ اسکینڈل تھائی لینڈ کے بدھ مت کے ادارے (سنگھا) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو گزشتہ چند برسوں سے پجاریوں کی اخلاقی و قانونی خلاف ورزیوں جیسے جنسی جرائم، منشیات اور مالی بدعنوانی کی خبروں کی زد میں ہے۔
اس تازہ واقعے کے بعد سنگھا سپریم کونسل نے نئے ضوابط اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ تھائی حکومت بھی راہبوں کے خلاف سخت سزائیں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جن میں جرمانے اور قید کی سزائیں شامل ہوں گی۔
بادشاہ نے 81 راہبوں کے اعزازی خطابات منسوخ کر دیے
تھائی لینڈ کے بادشاہ واجیرا لونگ کورن نے حال ہی میں 81 راہبوں کو دیے گئے شاہی اعزازات منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ راہبوں کے حالیہ اسکینڈلز سے "بدھ مت ماننے والوں کو ذہنی اذیت پہنچی ہے"۔
ادارے میں اصلاحات کی ضرورت، ماہرین کا مطالبہ
تھاماسات یونیورسٹی کے سماجی علوم کے ماہر پراکرِتی سٹاسُت کا کہنا ہے کہ "ضروری ہے کہ سچ سامنے آئے تاکہ عوام سنگھا ادارے کی ساکھ پر اعتماد کر سکیں۔"
دوسری جانب مذہبی اسکالر سورافوت تھاویسک نے سنگھا کے سخت اور مرکزی کنٹرول والے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "نچلے درجے کے پجاری اعلیٰ حکام کے خلاف کچھ بولنے کی ہمت نہیں کرتے، کیونکہ انہیں فوراً برطرف کیا جا سکتا ہے۔"