ویب ڈیسک: بھارتی ریاست منی پور میں تشدد اور بدامنی عروج پر، گزشتہ دس دنوں میں تین فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منی پور کے ضلع سناپتی میں آسام رائفلز کے کیمپ پر ہجوم کے حملے کے بعد شدید کشیدگی پھیل گئی۔ ہجوم نے کیمپ پر پتھراؤ کیا، املاک کو نقصان پہنچایا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ آسام رائفلز نے عیسائیوں کے حقوق کی علمبردار نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے کارکنوں کے خلاف آپریشن شروع کیاتھا۔ خواتین سمیت مقامی باشندوں نے ماکوئی لونگدی اور اوکلونگ کی جانب بڑھنے والے آسام رائفلز کے دستوں کو روک دیا۔ سوشل میڈیا پر مبینہ تصادم کی اطلاعات کے بعد لوگوں کو سناپتی شہر میں جمع ہونے کے پیغامات دیے گئے۔ رات تقریباً نو بجے مظاہرین نے آسام رائفلز کے کمپنی آپریٹنگ بیس کی جانب مارچ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، خالی کارتوس اور طاقت استعمال کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس واقعے میں مظاہرین کی جانب سے آسام رائفلز کی ایک گاڑی جلائی گئی، دو ٹرک الٹا دیے گئے، جبکہ ایک کار اور انتظار گاہ بھی نذرِ آتش کر دی گئی۔واقعہ منی پور میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور جنگ بندی معاہدوں پر کمزور عمل درآمد کی نشاندہی کرتا ہے۔
تجزیہ کارحالیہ پرتشدد واقعات میں فوجیوں کی ہلاکت ریاستی سکیورٹی پالیسی کی سنگین ناکامی ظاہر کرتی ہے۔ سناپتی میں آسام رائفلز کے کیمپ پر حملہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی حکومت منی پور میں اعتماد اور امن دونوں کھو چکی ہے۔فوجی کیمپ پر پتھراؤ، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا اور املاک کی تباہی منی پور کی بگڑتی صورتحال کی واضح تصویر ہے۔ جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں نے بھارتی حکومت کے امن و سلامتی کے دعوؤں کی حقیقت ایک بار پھر بے نقاب کر دی۔ مسلح گروہوں کی آزادانہ نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ نئی دہلی کا انتظامی اور سکیورٹی کنٹرول صرف کاغذوں تک محدود ہے۔
سوشل میڈیا کے ایک پیغام پر ہزاروں افراد کا سڑکوں پر نکل آنا مقامی غصے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔