ویب ڈیسک: پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جہاں 5 اگست کو احتجاج کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے ملک گیر احتجاج کے بجائے 5 اگست کو ایک بڑے جلسے کے انعقاد کی حمایت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر سمیت بیشتر ارکان کی رائے تھی کہ کسی طویل احتجاجی تحریک کے آغاز کے بجائے ایک روزہ جلسہ منعقد کیا جائے۔ ارکان کا مؤقف تھا کہ ملک بھر میں احتجاج کے بجائے ایک مقام پر عوامی اجتماع زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ احتجاجی سرگرمیوں اور بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے معاملے کو جلسے تک محدود رکھا جائے۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ 5 اگست کے جلسے سے متعلق تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔