ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس میں مالی سال 2025-2024 کے لیے 5335 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔
بجٹ کی جھلکیاں:
کل بجٹ حجم: 5335 ارب روپے
ترقیاتی بجٹ: 1240 ارب روپے (47.2٪ اضافہ)
تعلیم کا بجٹ: 811.8 ارب روپے (21.2٪ اضافہ)
صحت کا بجٹ: 630.5 ارب روپے (17٪ اضافہ)
زراعت کا بجٹ: 129.5 ارب روپے (10.7٪ اضافہ)
دیگر اہم نکات:
غیر ملکی فنڈڈ منصوبے: 171.7 ارب روپے
جاری اخراجات: 2026.7 ارب روپے
سروس ڈیلیوری اخراجات: 679.8 ارب روپے (5.8٪ کمی)
بلدیاتی حکومتوں کو منتقلی: 934.2 ارب روپے
ریونیو اہداف:
ایف بی آر ٹارگٹ: 14,131 ارب روپے
پنجاب کا حصہ: 4062.2 ارب روپے
پنجاب کا اپنا ریونیو ہدف: 828.1 ارب روپے
ٹیکس وصولیاں: 524.7 ارب روپے
نان ٹیکس آمدن: 303.4 ارب روپے
دیگر محصولات:
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف: 340 ارب روپے (13٪ اضافہ)
اربان امویبل پراپرٹی ٹیکس ہدف: 32.5 ارب روپے
پنجاب بورڈ آف ریونیو کا ہدف: 105 ارب روپے
مالیاتی توازن:
بجٹ سرپلس کا تخمینہ: 740 ارب روپے
سبسڈی کا ہدف: 72.3 ارب روپے
یہ بجٹ صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے، بنیادی سہولیات میں بہتری اور سماجی شعبوں کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کی حکومت کا یہ پہلا مکمل بجٹ ہے جس میں فلاحی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔