(ویب ڈیسک) 7 جون 2026 کو اتراکھنڈ میں کیتن لال نامی 18 سالہ دلت نوجوان کو مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کر دیا گیا جبکہ اس کا دوست شدید زخمی ہوا۔ دونوں پر حملہ ایک اونچی ذات کی لڑکی کے اہلِ خانہ نے ان کی دوستی کی بنا پر کیا۔
کیتن لال گزشتہ چھ ماہ سے کھول گڑھ کی ایک لڑکی کے ساتھ دوستی میں تھا۔اسے لڑکی کی دوست کے ذریعے بلایا گیا، جہاں لڑکی کے اہلِ خانہ نے دونوں نوجوانوں کو ایک کمرے میں بند کر کے لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔کیتن لال کو قید رکھا گیا، رات بھر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔
نیشنل کمپین آن دلت ہیومن رائٹس (NCDHR) کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں اتراکھنڈ، شیڈولڈ کاسٹس اور شیڈولڈ ٹرائبز کے خلاف جرائم کے حوالے سے بھارتی ریاستوں میں 18ویں نمبر پر رہا، جہاں ایسے مجموعی جرائم کا 5.4 فیصد رپورٹ ہوا۔
اضافی اعداد و شمار این سی آر بی(NCRB )کے مطابق بھارت میں شیڈولڈ کاسٹس (SCs) کے خلاف جرائم کے 2022 میں 57,582 مقدمات درج ہوئے، جو 2023 میں تقریباً 57,789 تک پہنچے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 55,698 رہی۔
اتر پردیش مسلسل سب سے زیادہ مقدمات رپورٹ کرنے والی ریاست رہی، جہاں حالیہ برسوں میں 15,000 سے زائد مقدمات سامنے آئے، اس کے بعد راجستھان اور مدھیہ پردیش نمایاں رہے۔
2024 میں شیڈولڈ کاسٹس کے خلاف جرائم کی قومی شرح 27.7 فی لاکھ SC آبادی ریکارڈ کی گئی۔ اتراکھنڈ میں ایک حالیہ سال کے دوران شیڈولڈ کاسٹس کے خلاف 114 مقدمات رپورٹ ہوئے، جو اتار چڑھاؤ کے باوجود ایک مستقل رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ NCDHR کے کئی سالہ تجزیے میں اس ضمن میں 21.4 فیصد تبدیلی بھی نوٹ کی گئی۔
SC/ST (Prevention of Atrocities) Act کے تحت دلتوں کے خلاف جرائم میں متعدد برسوں کے دوران مجموعی اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر 2021 سے 2022 تک قومی سطح پر 13.1 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔
متعدد مقدمات میں سزا کی شرح کم جبکہ زیرِ التوا مقدمات کی تعداد بدستور زیادہ رہی۔
2024میں شیڈولڈ کاسٹس کے خلاف قتل کے 871 مقدمات درج ہوئے جبکہ اقدامِ قتل کے 1,182 مقدمات بھی رپورٹ ہوئے۔
سابقہ مماثل واقعات: 2022 میں دلت سیاسی کارکن جگدیش چندر کو ایک اونچی ذات کی خاتون سے شادی کے بعد تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔
2013 احمد نگر قتل کیس، مہاراشٹر: تین دلت مردوں کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جب ان میں سے ایک نوجوان کو ایک اونچی ذات کی لڑکی سے محبت ہوئی۔
دیگر دستاویزی واقعات میں اتر پردیش، ہریانہ اور راجستھان جیسی ریاستوں میں بین ذات تعلقات یا دوستیوں کی بنیاد پر دلت نوجوانوں کے قتل اور تشدد کے واقعات شامل ہیں، جن میں اکثر خاندانی سطح پر منظم تشدد کا عنصر نمایاں رہا۔
وسیع تر رجحان: NCRB اور NCDHR کی رپورٹس ہر سال ذات پات پر مبنی ہزاروں مظالم کو دستاویزی شکل دیتی ہیں، جن میں “غیرت” کے نام پر تشدد اکثر بین ذات سماجی روابط سے جڑا نظر آتا ہے۔
بھارت میں ذات پات کی گہری جڑیں رکھنے والی درجہ بندیاں دلتوں کے خلاف پرتشدد حملوں کو مسلسل جنم دے رہی ہیں، خصوصاً اس وقت جب وہ مساوی سماجی حیثیت اور بنیادی انسانی احترام کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔