بھارت میں “ہندو پانی، مسلم پانی” کا تنازعہ

بھارت میں “ہندو پانی، مسلم پانی” کا تنازعہ

(ویب ڈیسک ) بھارت میں اقلیتوں کے لیے پانی کا حصول ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ پانی کا حصول خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ 

بھارتی میڈیا  کے مطابق  دہرادون کے ایک علاقے میں مسلمانوں کا پانی بند کر دیا گیا۔   پانی کا حصول خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تصادم میں بی جے پی اور بجرنگ دل سے وابستہ ونود کمار ہلاک ہوا،ایف آئی آر میں امتیاز، رزاق، سلمان، جاوید، شہباز اور دیگر نامزد ہیں جبکہ واقعے کے بعد احتجاج، پتھراؤ، آتش زنی اور بلڈوزر کارروائی سامنے آئی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پانی بند کرنے والوں کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ نامزد کیے گئے تمام افراد مسلمان ہیں۔ واقعے کو مذہبی منافرت کے لیے استعمال کیا گیا۔ پانی انسانی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ بھارت میں پانی کے حصول کے لیے انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ بھارت کو سمجھنا ہو گا پانی انفرادی یا قومی سطح پر سب کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔

سیاسی مبصرین نےکہا ہے کہ بھارت اپنے اندر بھی پانی کو سماجی دباؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ یہی روش پاکستان کے خلاف بھی نظر آتی ہے، جہاں بھارت آبی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھا ہے اور پانی روکنے کے اعلانات کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارتی وزیرِ دفاع نے بھی دریائی پانی کو پاکستان پر دباؤ کے بیانیے سے جوڑا۔ بھارت میں پانی کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، چاہے نشانہ مسلمان ہوں یا پاکستان۔دہرادون کا واقعہ اور سندھ طاس معاہدہ ایک ہی خطرناک ذہنیت کی مختلف شکلیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ بھارت میں پانی انسانی حق رہے گا یا سیاسی ہتھیار بنتا جائے گا۔ س

Watch Live Public News