پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
کیپشن: پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ویب ڈیسک:  کراچی کی مقامی عدالت نے منشیات فروش انمول عرف ‘ پنکی’ کا جسمانی ریمانڈ 22 مئی تک منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔

تھانہ بغدادی پولیس نے ملزمہ کو قتل کیس میں عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کا نیٹ ورک وسیع ہے جو پنجاب سمیت مختلف شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 800 افراد کی فہرست ملی ہے جبکہ اس کے نیٹ ورک میں غیر ملکی عناصر کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ملزمہ گزشتہ 15 سال سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی تھی اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ رہی ہیں۔

عدالت میں تفتیشی افسر نے یہ بھی بتایا کہ قتل کیس میں مقتول کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم موقع سے برآمد ہونے والی منشیات کا تعلق ملزمہ کے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔

ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد ریمانڈ کی استدعا منظور کر لی۔

عدالت کے حکم پر کیس سے جڑے مزید دو ملزمان ذیشان اور سہیل کو بھی پیش کیا گیا، عدالت کے استفسار پر ملزمان نے بتایا کہ وہ دونوں سگے بھائی ہیں اور ایزی پیسہ شاپ چلاتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کی دکان سے ملزمہ کے نیٹ ورک کے لیے کروڑوں روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں، جبکہ ان کا ایک اور ساتھی ملزم ‘قمر’ ابھی تک مفرور ہے۔

سٹی کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، جس کے بعد عدالت نے انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے ایس آئی یو پولیس کے حوالے کر دیا۔

Watch Live Public News