ویب ڈیسک : سوشل میڈیا سمیت کسی بھی ذریعے سے امتحانی پرچہ لیک کرنے پر3 برس قید ، ضمانت بھی نہیں ہوگی، پنجاب نے نئی قانون سازی کے لئے قواعد وضوابط تیار کرلئے ۔
لاہور کے تعلیمی بورڈ نے امتحانات میں نقل اور پرچے لِیک کرنے سے متعلق نئے ضوابط مرتب کر لیے ہیں۔
تعلیمی بورڈ کی جانب سے تمام تعلیمی اداروں کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے خبردار کیا گیا ہے کہ ’امتحانی پرچے لیک کرنے اور ان کو سوشل میڈیا یا کسی بھی طریقے سے پھیلانے پر تین برس قید کی سزا اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم پنجاب کے مطابق لاہور بورڈ کے بعدپنجاب کے دیگر بورڈز بھی اس کی پیروی میں ضوابط متعارف کرائیں گے۔
نئے ضوابط کے مطابق سوالیہ پرچہ لیک کرنے میں ملوث سرکاری اہل کاروں کے خلاف قید کی سزا اور جرمانے کے علاوہ ان کی نوکری بھی ختم کی جائے گی۔ریکٹیکل کے امتحانات میں موبائل فون لانے اور کسی بھی طرح کی مداخلت کرنے پر ییڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ٹیچرز ایسوسی ایشنز نے نقل کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے۔
یادرہے تعلیمی امتحانات میں نقل کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کو بڑے پیمانے پر چیلنجز کا سامنا رہا ہے تاہم پنجاب نے اب اس سے متعلق سخت قوانین متعارف کروا دیے ہیں۔