ویب ڈیسک: (علی زیدی) بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کی کے چھوٹے بیٹے جے کی آیا کے بیان سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور کا منصوبہ تھا کہ وہ سیف علی خان اور کرینہ کپور کے چھوٹے بیٹے جے کو یرغمال بنا کر ایک کروڑ تاوان وصول کرے گا تاہم سیف علی خان کی مزاحمت کے بعد انہیں زخمی کرکے وہ فرار ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے نزدیک وہ سیف علی خان کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا اور اسی لئے وہ گھبراکر بھاگ گیا۔
گزشتہ 4 سال سے سیف کے گھر پر اسٹاف نرس کے طور پر کام کر نے والی آیا نے بتایا ہے کہ سیف علی خان کی فیملی عمارت کی 12ویں منزل پر رہتی ہے۔ ہر منزل پر 3 کمرے ہیں۔ یہاں سیف اور کرینہ اور دیگر وہاں رہتے ہیں، 15 جنوری کی رات تقریباً 11 بجے، انہوں نے چھوٹے بیٹے جے کو کھانا کھلایا اور سونے کے لیے میرے حوالے کر دیا اور خودسونے کے لئے چلے گئے۔
تاہم رات 2 بجے مجھے کچھ شور سنائی دیا۔ میں جاگ گئی تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ باتھ روم کی لائٹ جل رہی تھی، میرے خیال میں کرینہ میڈم جے سے ملنے آئی ہوں گی، لیکن احتیاطا میں نے پوچھا کہ باتھ روم میں کون ہے تو ایک شخص سیف کے چھوٹے بیٹے کے بستر کی طرف جانے لگا اور کہا 'کوئی آواز نہیں'، شور کی آواز پر اسٹاف کے کچھ افراد اوربھی جاگ گئے، یہ دیکھ کر ملزم نے انہیں بھی دھمکایا ۔
نرس کے مطابق وہ جہانگیر کو لینے کے لئے بھاگی تو ملزم نے اس کا تعاقب کیا جس نے بائیں ہاتھ میں لکڑی جیسی چیز اور دوسرے ہاتھ میں ایک پتلا تیز دھارریمبو اسٹائل خنجر پکڑ رکھا تھا۔ اور مجھ پر حملہ کیا خنجر میرے دونوں ہاتھوں کلائی کے قریب اور بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی پر لگا اس وقت میں نے اس سے پوچھا 'تم کیا چاہتے ہو؟' تو اس نے کہا ایک کروڑ۔
آواز سن کر سیف اور کرینہ دونوں دوڑے چلے آئے، جب سیف نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے، کیا چاہتا ہے؟ اس نے سیف پر خنجر سے اندھا دھند وار شروع کردئیے ۔
آیا اور خاندان کے دیگر عملے نے ابراہیم کو فون کیا۔ ابراہیم اور سارہ علی خان بھی آٹھویں منزل پر رہتے ہیں اور وہ سیف علی خان کو ایک آٹو میں لے گئے۔ رکشے پر اس لئے لے جایا گیا کہ اس وقت خاندان میں کوئی ڈرائیور نہیں تھا اور کسی کو آٹومیٹک الیکٹرک گاڑی چلانی نہیں آتی تھا، اس لیے وہ تاخیر ہونے کے پیش نظر سیف علی خان کو رکشے کے ذریعے لیلاوتی اسپتال لے کرگئے۔