ویب ڈیسک: مون سون کی شدید بارشوں نے جہلم، چکوال اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں تباہی مچا دی۔ درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ متعدد علاقوں میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
جہلم کے علاقے ڈھوک بدر میں طوفانی بارش کے باعث 40 افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، سیلابی ریلے میں پھنس گئے جنہیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو کیا گیا۔ نالہ پنہاں میں طغیانی کے باعث رجروڑ نکہ خاص میں بھی کئی افراد محصور ہو گئے ہیں۔
چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید بارش ہوئی، جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق چکوال میں 423 ملی میٹر، کلر کہار اور وہالی زیر میں 325 ملی میٹر جبکہ چوآسیدن شاہ میں 310 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
چکوال کے علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ خاتون اور بچی زخمی ہوئیں۔
ڈھوک مستانی اور پادشہان سمیت دیگر علاقوں میں پانی آبادیوں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے بعد شہریوں کی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی جاری ہے۔ ریسکیو ادارے متاثرہ افراد کو نکالنے اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ نے ہنگامی صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید بارشوں اور کلاؤڈ بلاسٹ کے باعث سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور اسپیشل فورسز کی مدد ناگزیر ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بھی تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ بارش چکوال میں ہوئی ہے۔
ادھر لاہور، فیصل آباد، جہلم، سرگودھا اور دیگر اضلاع میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے مختلف حادثات میں 28 افراد جاں بحق جبکہ 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں سے 12 کا تعلق لاہور، 8 کا فیصل آباد، 3 کا شیخوپورہ اور 2 افراد کا تعلق اوکاڑہ سے بتایا گیا ہے۔