(ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کشمیر بھی کھلوائے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے عام انتخابات 2026 کو ریاست کی تاریخ کا اہم ترین انتخاب قرار دے دیا۔
بلاول بھٹو نے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات ریاست آزاد کشمیر، ریاست پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا امتحان ہیں،سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، عوام کی خدمت اور ان کی آواز بننا اصل سیاست ہے،قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے عوامی خدمت کی سیاست سکھائی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں عوام مشکلات میں ہوں، وہاں پاکستان پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، کشمیری عوام کی آواز مظفرآباد، اسلام آباد اور عالمی برادری تک پہنچانا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے،اگر آزاد کشمیر کے عوام نے پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دیا تو ہر فورم پر کشمیریوں کی نمائندگی کروں گا،جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے کشمیریوں کی آواز بلند کی، اسی روایت کو آگے بڑھاؤں گا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ کشمیر، پاکستان اور عوامی مسائل کا حل صرف جمہوری، سیاسی اور پرامن طریقے سے ممکن ہے، کشمیری عوام کی تکلیف ہماری اپنی تکلیف ہے، ان کے دکھ پر پیپلز پارٹی خاموش نہیں رہ سکتی،جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، شہید بینظیر بھٹو کی یہی تعلیم تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاجی قیادت کے خط کے جواب میں ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز دی ہے،کمیشن بننے تک احتجاج معطل اور ریاستی کارروائیاں بھی روک دی جائیں،کمیشن طے کرے کہ کون درست تھا، کس نے قانون شکنی یا جرائم کیے،میری تجویز نہ مانی جائے تو حکومت اور احتجاجی قیادت متبادل حل قوم کے سامنے رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے جاری بحران کا سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام برداشت کر رہے ہیں، راستوں کی بندش سے خوراک، ایندھن اور ادویات کی ترسیل متاثر ہوئی، عوام مشکلات کا شکار ہیں،حکومت کی غلطیوں کی سزا عام کشمیری عوام کو نہیں ملنی چاہیےریاست کی رٹ برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر اجتماعی سزا کسی صورت قابل قبول نہیں،چند افراد کے اقدامات کی سزا پورے آزاد کشمیر کو دینا انصاف نہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ڈڈیال سمیت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بندش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کو پکڑیں، بے گناہ عوام کو سزا نہ دیں،ایف سی آر جیسی اجتماعی سزا کی سوچ ناقابل قبول ہے، جدید ریاست میں ایسے اقدامات کی گنجائش نہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ریاست پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا، اب بند کشمیر بھی کھلوایا جائے،نئی نسل کو حقوق، روزگار اور حقِ حاکمیت کی جدوجہد میں کردار ادا کرنا ہوگا،حقِ حاکمیت، حق ملکیت اور حقِ روزگار پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہیں،یہ مطالبات کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ ہر کشمیری کے مطالبات ہیں، گلگت بلتستان میں عوام نے انہی نعروں پر پیپلز پارٹی کو تاریخی کامیابی دلائی،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں بھی نئی سیاسی تاریخ رقم ہوگی، عالمی سطح پر کشمیر کے حقِ خودارادیت کی آواز ہمیشہ بلند کرتے رہیں گے،وزیر خارجہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ اور او آئی سی میں کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھایا، بھارت جا کر بھی مودی حکومت کے سامنے کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی، کشمیر کے عالمی مقدمے پر پاکستان پیپلز پارٹی ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو عبوری مدت میں زیادہ سے زیادہ آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق ملنے چاہئیں،عالمی مؤقف کو نقصان پہنچائے بغیر کشمیری عوام کو مزید اختیارات دینا وقت کی ضرورت ہے،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی نئی نسل اپنے مستقبل، حقوق اور بااختیار نظام کی خواہاں ہے۔