ویب ڈیسک: امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے حکم کے باوجود سینکڑوں مبینہ گینگ ممبران کو ایل سلواڈور ڈی پورٹ کر دیا۔ حالانکہ ایک وفاقی عدالت نے اس اقدام کو روکنے کا حکم دیا تھا۔ جبکہ ڈی پورٹ ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق وینزویلا سے بتایا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز امریکی جج جیمز بوس برگ نے ایلین اینیمز ایکٹ کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو جبری ملک بدری سے روک دیا اور حکم دیا کہ جو پروازیں پہلے ہی روانہ ہو چکی ہیں۔ انہیں واپس امریکا لایا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ حکم 14 دن کے لیے نافذ رہے گا یا جب تک مزید کوئی عدالتی فیصلہ نہ آجائے۔
ہفتے کے روز امریکی ڈسٹرکٹ جج جیمز ای بواسبرگ نے غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری کو روکنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن اس سے پہلے ہی دو طیارے غیر قانونی تارکین وطن کو لے کر روانہ ہو چکے تھے۔
ایک ایل سلواڈور کے لیے اور دوسرا ہونڈوراس کے لیے۔ جج نے زبانی طور پر حکم دیا کہ ان طیاروں کو واپس بلایا جائے لیکن یہ حکم تحریری طور پر نہیں دیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں طیارے اپنی مقررہ منزلوں پر پہنچ گئے اور ملک بدری کا عمل انجام دیا گیا۔
ایل سلواڈور کے صدر نائب بوکیل، جو ٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس معاملے پر ردعمل دیا۔ امریکی جج کے فیصلے کی خبر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، "اف… بہت دیر ہو گئی!"۔ اس پوسٹ کو وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے بھی شیئر کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوئی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ملک بدر کیے گئے تارکین وطن "ٹرین ڈی آراگوا" گینگ کے رکن تھے، لیکن کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ نے صرف اتنا کہا کہ MS-13 گینگ کے دو سرکردہ ارکان کو بھی ایل سلواڈور بھیجا گیا تھا۔ تاہم، انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ حکومت عام وینزویلا کے باشندوں کو بھی بغیر کسی کارروائی کے ملک بدر کر رہی ہے اور انہیں گروہوں سے جوڑ رہی ہے۔