بھارتی نیوی کے روہنگیا کے لوگوں پر انسانیت سوز مظالم، نہتے افراد کو سمندر میں پھینک دیا

 بھارتی نیوی کے روہنگیا کے لوگوں پر انسانیت سوز مظالم، نہتے افراد کو سمندر میں پھینک دیا

ویب ڈیسک: اقوامُ متحدہ نے انسانیت کے خلاف جرائمُ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا، بھارت نے روہنگیا پناہ گزینوں کو بحری جنگی جہازوں کے ذریعے کھلے سمندر میں دھکیل دیا،یہ اقدام انتہا پسند ہندوتوا سوچ میں لپٹی نسل کشی کی ایک اور بھیانک مثال ہے۔

 اقوام متحدہ کی اطلاعات کے مطابق بھارت نے بحریہ کو نسل کشی کا اوزار بنا دیا،نہتے انسانوں کو   سمندر میں پھینکنا "سرحدی تحفظ" نہیں، ریاستی دہشت گردی ہے، انسانیت کی توہین ہے۔

 دنیا کی "سب سے بڑی جمہوریت" نے پناہ گزینوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں جہازوں میں بھر کر سمندر میں دھکیل دیا، ایسا راج جہاں انسانیت شرمندگی کے سمندر میں ڈوب جائے؟

آسام کی آگ سے لے کر سمندر کی بے رحم موجوں تک،مودی سرکار ہٹلر کے نسخے کو پورے بھارت میں دہرا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے محقق چیخ اٹھے: "ناقابلِ قبول!"—لیکن کب بھارت کو انسانیت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا؟

میانمار کی قتل گاہوں کی طرف روہنگیا کو دھکیلنا ملک بدری نہیں، یہ نسل کشی کا ٹھیکہ دینا ہے،اب دہلی کا حساب دی ہیگ میں انسانی جرائم کی کونسل میں ہونا چاہیے۔

 اگر روس کے میزائل جنگی جرم قرار پاتے ہیں، تو مودی کے جہاز جو لاشوں کو بہاتے ہیں، وہ جنیوا میں جرم کیوں نہیں سمجھے جاتے؟ کیا مظلوموں کی شناخت اور رنگ انصاف کی بنیاد بدل دیتے ہیں؟

 بھارت نے بین الاقوامی قوانین کو پامال کر دیا،نہ جنیوا کنونشن کی پرواہ کی گئی، نہ عالمی پناہ گزین اصولوں کی،پھر بھی انسانی حقوق کا علمبردار بننے کا دعویٰ؟

 بھارتی بحریہ نے نہ صرف روہنگیا کو بچانے سے انکار کیا بلکہ انہیں "بوجھ" سمجھ کر سمندر میں پھینک دیا،یہ ملک بدری نہیں بلکہ فوجی انداز میں منظم نسل کشی ہے۔

 آسام سے بے دخل کیے گئے 100 روہنگیا نہ زندہ بچ سکے، نہ مردہ، یہ ملک بدری نہیں بلکہ انسانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا ناقابلِ معافی جرم ہے۔

 مارچ میں اقوامِ متحدہ نے بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر خبردار بھی کیا، لیکن بھارت نے ایک نہ سنی۔

 اقوام متحدہ نے اپیل کی: "ہمیں حراستی مراکز تک رسائی دی جائے"، مگر بھارت نے دروازے بند کر دیے،کیا وہاں وہ کچھ ہے جو دنیا کی نظروں سے چھپایا جا رہا ہے؟

 وہ 40 افراد کہاں گئے؟ نہ سمندر نے جواب دیا، نہ دہلی نےبھارت کی ظلم بھری داستان اب خشکی سے سمندر تک پھیل چکی ہے۔

Watch Live Public News