ویب ڈیسک: امریکا کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ایک نئے تنازع کا شکار ہوگئے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے ان پر خفیہ دفاعی معلومات کے افشا اور انہیں غیر محفوظ ذرائع کے ذریعے منتقل کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کردی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جان بولٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے قومی سلامتی سے متعلق حساس اور خفیہ دستاویزات کو اپنی ذاتی ای میل اور چیٹ ایپس کے ذریعے بھیجا۔ یہ عمل امریکی قوانین کی خلاف ورزی اور حساس معلومات کے تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بولٹن نے باضابطہ اجازت یا کلیئرنس حاصل کیے بغیر کئی دفاعی نوعیت کی دستاویزات کو اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا۔ اس حوالے سے ایف بی آئی نے بتایا کہ 2021 میں ایرانی حکومت سے منسلک ہیکرز نے جان بولٹن کے ای میل اکاؤنٹ کو ہیک کرکے ان حساس معلومات تک رسائی حاصل کر لی تھی۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اُس وقت بولٹن کے نمائندے نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا ای میل ہیک ہوا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس اکاؤنٹ میں خفیہ سرکاری معلومات بھی محفوظ تھیں۔
دوسری جانب، جان بولٹن نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ قانون کے مطابق کام کرتے رہے ہیں اور کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں۔
واضح رہے کہ جان بولٹن 2018 سے 2019 تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رہے، تاہم پالیسی اختلافات کے باعث انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خلاف تازہ مقدمے نے امریکا کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔