ویب ڈیسک: دنیاوی مسائل میں سب سے بڑا بوجھ قرض ہے جو انسان کو ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر کمزور کر دیتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ رزقِ حلال کمائے اور بغیر قرض کے زندگی گزارے، مگر حالات کبھی کبھار ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ ضرورت کے تحت قرض لینا پڑ جاتا ہے۔ جب قرض کی واپسی مشکل ہو جائے تو انسان پریشانی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسلام ہمیں صرف دنیاوی تدابیر ہی نہیں بلکہ روحانی راستے بھی دکھاتا ہے، جن کے ذریعے دل کو سکون اور حالات میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث میں ایسے کئی اذکار اور وظائف موجود ہیں جو قرض کے بوجھ سے نجات اور رزق میں برکت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان وظائف کو اپنانے سے نہ صرف مالی مشکلات کم ہوتی ہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔
دارالافتاءجامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ پر قرض کے بوجھ سے نجات کے متعلق پوچھے گئے سوال پر اسلامی وظیفہ شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے وظیفہ
سوال
مجھے کوئی دعا یا وظیفہ بتادیں کہ میرے اوپر قرض ہے, اللّہ کی مہربانی سے ادا ہو جاۓ !
جواب
قرض کی ادائیگی کے لیے ان چند باتوں پر عمل کریں، ان شاء اللہ ان کی برکت سے اللہ تعالی قرض کے بوجھ سے خلاصی عطا فرمائیں گے :
(1) سب سے پہلے گناہوں سے توبہ کریں اور استغفار کی کثرت کریں، استغفار کی کثرت سے مال واولاد میں ہرطرح کی خیروبرکت کا وعدہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
(2) نمازو روزے کی پابندی کریں۔
(3) زکاۃ واجب ہے تو وقت پر اداکردیں۔
(4) سود سے دور رہیں۔
(5)روزانہ مغرب یا عشاء کے بعد سورہ واقعہ پڑھا کریں۔
(6) یہ دعا روزانہ 21 بار پڑھیں :'' اَللّٰهُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنی بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ''.
(7) ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:''اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.''
(۷) دورد شریف صبح وشام ۲۱-۲۱ مرتبہ پڑھاکریں۔ اور اسی طرح سورۃ الشوریٰ کے دوسرے رُکوع کی آخری آیت: “اَللهُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِه ...الخ“ (۲۵واں پارہ، سورۃ الشوریٰ آیت نمبر: 19) آخر تک اسی (80)مرتبہ فجر کے بعد پڑھا کریں، اگر داڑھی منڈاتے یا کتراتے ہیں تو اس سے توبہ کریں۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143909201708
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اس وظیفے کو پڑھنے کیلئے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر جا کر مطالعہ کر سکتے ہیں ۔