شکریہ! مودی جی، 75 ویں سالگرہ مبارک!

شکریہ! مودی جی، 75 ویں سالگرہ مبارک!
کیپشن: شکریہ! مودی جی، 75 ویں سالگرہ مبارک!

ویب ڈیسک:نریندر مودی کی آج 75ویں سالگرہ کے موقع پر ایک طنزیہ مگر حقیقت پر مبنی کالم تحریر کیا گیاہے۔ جس میں نریندر مودی کی اقتدار میں آنے کے بعد 10 سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس کا فائدہ براہ راست پاکستان کو ہوا۔ 

یہاں ہمارے قارئین کیلئے دلچسپ کالم ترجمے کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔ 

اصل شائع شدہ انگریزی کالم کیلئے یہاں کلک کریں:

اپریل 2007 میں میرا ایک ساتھی بھارت گیا۔ اُس وقت نئی دہلی کو 14ویں سارک سربراہی اجلاس کے لیے سجایا گیا تھا اور یہ شہر ایک نئی خود اعتمادی کے ساتھ جگمگا رہا تھا، جیسے ایک ایسی قوم جسے یقین ہو کہ وہ خوشحالی کا راز پا چکی ہے۔ بالی ووڈ سے جانی پہچانی بھارت کی تصویر کے برعکس، ایسا لگ رہا تھا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں بھارت حقیقتاً اڑان بھرنے کو تیار ہے۔ معیشت بڑھ رہی تھی، پالیسیاں کامیاب ہو رہی تھیں، سفارت کاری کے ثمرات مل رہے تھے اور شہر چمک رہے تھے۔

2007 میں پاکستان بھی نئے اسباق سیکھ رہا تھا جب چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت جمہوریت واپس آئی۔ ملک کو کسی ادھار شدہ ماڈل کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے نظریے کی ضرورت تھی جو اپنی جغرافیائی حیثیت، مفادات، وسائل اور چیلنجز پر مبنی ہو۔ اُس وقت لگتا تھا کہ فیصلہ ساز متفق ہیں کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو اثاثہ بنائے گا، تجارت کے دروازے کھولے گا، دہشت گردی کو ختم کرے گا اور صوبوں کو اختیارات دے گا۔ پاکستان نے یہ بھی سیکھا کہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن رکھنا ہے — امریکہ، چین، یورپی یونین، سعودی عرب اور تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت کے ساتھ۔ یوں پاکستان ایک نئی راہ پر چل نکلا۔

اب تیزی سے آگے بڑھتے ہیں 2025 کی طرف۔ قریباً دو دہائیوں پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں بہت سے سیاست دانوں، دانشوروں، شہریوں، تاجروں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے استحکام کی جستجو میں کردار ادا کیا۔ لیکن خواتین و حضرات، ذرا دل تھام لیجیے، کیونکہ اصل حیرت اُس شخصیت کا شکریہ ادا کرنے میں ہے جسے میں نے کبھی کریڈٹ دینے کا سوچا بھی نہ تھا۔ جی ہاں — نریندر مودی صاحب۔

بھارت کی طاقت کے سب سے اونچے زینے پر بیٹھا یہ شخص، ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کو مضبوط بنانے میں اُن ممالک سے بھی زیادہ کردار ادا کر گیا جو خود کو کھلے عام ہمارے "دوست" کہتے ہیں۔ کاغذ پر تو اُس کی پالیسیاں بھارت کو طاقتور بنانے اور پاکستان کو محدود کرنے کے لیے بنائی گئیں، مگر حقیقت میں یہ اقدامات زیادہ تر پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے۔ سیاسی سائنس کی اصطلاح میں اسے “Backfire Effect” کہا جاتا ہے — جب کسی پالیسی کا مقصد مخالف کو کمزور کرنا ہو لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکل آئے اور وہ مزید طاقتور ہو جائے۔

ہر بار جب اُس نے پاکستان کے پر کاٹنے کی کوشش کی، نتیجہ الٹا نکلا: ہمارا عزم اور پختہ ہوا، ہمارے ادارے ڈھل گئے اور ہماری پرواز کی راہ مزید صاف ہو گئی۔ ہر بار جب اُس نے بھارت کو طاقت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی، تو معاملہ اُلٹا اُس پر ہی پلٹ گیا — جیسے نیوٹن کے دوسرے قانونِ حرکت میں کہا گیا ہے کہ ہر عمل کا ایک برابر اور الٹا ردِعمل ہوتا ہے۔

میں نے یہ مضمون مئی میں لکھنا شروع کیا تھا، پاکستان کی بھارت پر شاندار فتح کے فوراً بعد۔ لیکن پھر سوچا، کیوں نہ اسے ایک یادگار دن کے لیے محفوظ کر لوں؟ سو لیجیے، آج 17 ستمبر ہے — وزیراعظم مودی کی 75ویں سالگرہ۔ اگر شکریہ ادا کرنا ہے تو کیک کے ساتھ ہی سہی۔ ستم ظریفی تو خود ہی تحریر بن جاتی ہے۔ مودی جی کے پاکستان پر "انجانے احسانات" ہزاروں میں ہیں، لیکن میں فی الحال اُن 10 بڑے اقدامات پر بات کروں گا جو انہوں نے ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے کیے مگر وہی ہمارے لیے ایندھن بن گئے۔

 
پہلا شکریہ: بھارت کے سیکولرازم کا فسانہ توڑنے پر

دہائیوں تک پاکستان بھارت کے سیکولر ازم کے دعوے کا اکیلا ناقد تھا۔ ہم دنیا کو بتاتے رہے کہ بھارت کا تاثر اور حقیقت الگ ہیں، لیکن ہمیں اکثر نظرانداز کیا گیا۔ پھر آئے مودی صاحب، جنہوں نے نہ صرف سیکولرزم کا پردہ گرایا بلکہ اُس کے ستون بھی ہلا دیے۔ 2002 کے گجرات فسادات سے لے کر 2025 کے بہار انتخابات تک، وہ اُس پورے نظام کو روند رہے ہیں جس پر سیکولرزم قائم تھا۔ جو باتیں ہم نے اپنے اخبارات اور میڈیا میں کہہ کر ثابت نہ کر سکے، مودی نے دن دہاڑے دکھا دیں۔ آج یہ پاکستان نہیں بلکہ مغربی میڈیا ہے جو بھارت کے سیکولر تانے بانے کے بکھرنے کی خبر دے رہا ہے۔ شاید مغرب کو اب جا کر احساس ہوا ہو کہ پاکستان برسوں پہلے صحیح کہہ رہا تھا۔

 
دوسرا شکریہ: بھارت میں تقسیم ہند کے جواز کو زندہ کرنے پر

تقسیم برصغیر ایک مشترکہ سانحہ تھا، مگر اس کا جواز کبھی اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ہے۔ 1947 میں اقلیت کو حقوق نہ ملے تو وہ پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش بنی۔ بھارت کا اصل دعویٰ یہ تھا کہ سب مذاہب اور ذاتیں مل کر رہ سکتی ہیں۔ کاغذ پر تو یہ اچھا لگتا تھا مگر حقیقت میں ایسا نہ ہو سکا۔ ذات پات کے نظام میں مساوات صرف کمزور نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ آج ہر اقلیت — مسلمان، سکھ، عیسائی، دلت — سب کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے۔ جو بات ایک وقت میں پاکستان کا مؤقف سمجھی جاتی تھی، وہ آج بھارت کی روزمرہ حقیقت بن گئی ہے۔ دو قومی نظریہ، جسے کبھی تعصب کہا جاتا تھا، آج بھارت کی سرخیوں میں زندہ ہے۔ ہمارے آبا و اجداد غلط نہیں تھے۔

 
تیسرا شکریہ: کشمیریوں کو وہ وضاحت دینے پر جو ہم اکیلے نہ دے سکے

کشمیری عوام ایک بہتر مستقبل کے حق دار ہیں۔ دہائیوں تک بھارت نے اپنے آئین، اپنی معیشت اور اپنے دعووں کے پردے میں اُنہیں گمراہ رکھا۔ لیکن 2019 میں جب آپ نے آرٹیکل 370 ختم کیا تو سب نقاب اتر گئے۔ کشمیریوں کو پہلی بار بالکل واضح دکھائی دیا کہ بھارت انہیں کبھی برابر کا شہری تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ وضاحت پاکستان کی تقاریر سے زیادہ بھارت کے اپنے ہاتھ نے فراہم کی۔ آج کشمیری بچے سے لے کر بزرگ تک سب جانتے ہیں کہ اُن کی جدوجہد کیوں ضروری ہے۔

 
چوتھا شکریہ: بھارتی فضائیہ کے ذریعے ہماری مہمان نوازی دکھانے کا موقع دینے پر

ہم آپ کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے، مگر آپ نے پائلٹ بھیج دیا۔ 2019 میں جب بھارتی پائلٹ پاکستان آیا تو ہم نے اسے قیدی نہیں بلکہ مہمان سمجھ کر چائے پلائی، عزت دی اور واپس بھیج دیا۔ دنیا نے یہ منظر دیکھا اور حیران ہوئی۔ بھارت نے بمباری کی، پاکستان نے چائے دی۔ دنیا نے اس فرق کو یاد رکھا۔

 
پانچواں شکریہ: ہماری فضائی برتری ثابت کرنے کا موقع دینے پر

2019 میں آپ کو لگا کہ رافیل سب کچھ بدل دے گا۔ لیکن 2025 میں حقیقت برعکس نکلی۔ اس بار ہمارا جواب صرف چائے نہیں بلکہ اپنی فضائیہ اور جدید میزائل تھے۔ نتیجہ: چھ کے مقابلے میں صفر۔ ایک چھوٹے ملک نے بڑے حریف کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کامیابی میں ہمارا کردار تو تھا، مگر اسٹیج، لائٹس اور ناظرین سب آپ نے فراہم کیے۔

 
چھٹا شکریہ: ہمیں "کہیں نہ کھڑے ہونے" کی سفارتی حکمتِ عملی سکھانے پر

آپ نے بیک وقت QUAD اور BRICS دونوں میں بیٹھنے کی کوشش کی، یوکرین کی حمایت بھی کی اور روس کو اربوں ڈالر بھی دیے۔ یہ حکمتِ عملی نہیں بلکہ تضاد تھا۔ ہمیں آپ سے یہ سبق ملا کہ سفارت کاری میں اگر ہر جگہ کھڑے ہوں تو کہیں کے نہیں رہتے۔

 
ساتواں شکریہ: ہر دسترخوان پر بیٹھنے کے نقصان کا سبق دینے پر

سستا روسی تیل لے کر بیچنا اور ساتھ ہی واشنگٹن سے خصوصی رعایتیں مانگنا، یہ سب کچھ دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہا۔ یورپ اور امریکہ نے سب دیکھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ہمیں سبق ملا کہ ہر میز پر بیٹھنے کی کوشش نقصان دہ ہے۔

 
آٹھواں شکریہ: جنوبی ایشیا کی قیادت خالی کرنے پر

جنوبی ایشیا میں قیادت کبھی بھارت کے پاس تھی۔ مگر آپ نے بائیکاٹ اور واک آؤٹ کر کے یہ کرسی خالی کر دی۔ ہر خالی کرسی نے باقی ممالک کو متوجہ کیا کہ وہ بہتر قیادت کے حقدار ہیں۔ یوں بھارت خود ہی اپنے اثر سے محروم ہو گیا۔

 
نواں شکریہ: اپنی میڈیا کو اندر سے کھوکھلا کرنے پر

میڈیا طاقت پر سوال کرنے کے بجائے حکومت کا ترجمان بن گیا۔ نتیجہ یہ کہ بھارت کی "گودی میڈیا" نے اپنی ساکھ کھو دی۔ دوسری طرف پاکستان کی آواز زیادہ معتبر لگنے لگی۔ دنیا نے شور شرابے کے بجائے ہمارے نسبتاً پُرسکون لہجے کو زیادہ سنا۔

 
دسواں شکریہ: مسلم دنیا میں شکوک پیدا کرنے پر

اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات اور ڈرون معاہدے نے مسلم دنیا میں تشویش بڑھا دی۔ وہ ممالک جو بھارت کے بازاروں میں کھو گئے تھے، ایک بار پھر پاکستان کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے نہ صرف اپنے بانی گاندھی کی نصیحت بھلائی بلکہ مسلم دنیا کے دلوں میں بے اعتمادی بھی بڑھا دی۔

 
نتیجہ
مودی جی، آپ کے "انجانے احسانات" کی فہرست ہزاروں تک جا سکتی ہے لیکن میں نے صرف دس پر اکتفا کیا۔ میری پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ آپ کی 75ویں سالگرہ کو ایک تاریخی ستم ظریفی کے طور پر منائیں۔

اگر مودی صاحب مزید ایک دہائی تک اقتدار میں رہے تو پاکستان کے لیے اصل امتحان شاید مقابلہ نہیں بلکہ صبر ہوگا — یہ دیکھنا کہ ہم وہی غلطیاں نہ دہرائیں جو بھارت نے کیں۔ کبھی کبھی سب سے مشکل حکمتِ عملی یہ ہوتی ہے کہ حریف کی غلطیوں کو دہرانے سے پرہیز کیا جائے۔

اور آخر میں، اگر کسی کو براہِ راست شکریہ ادا کرنا ہے تو وزیراعظم مودی بالکل دستیاب ہیں — ٹوئٹر پر @narendramodi، بذریعہ ڈاک South Block, New Delhi – 110011، اور ان کی ویب سائٹ www.narendramodi.in پر۔ آخر کار، اگر شکریہ دینا ہے تو یہ اُن کے دروازے تک بھی پہنچ جانا چاہیے۔

تحریر کے مصنف مسعود احمد خان ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں اور ایک کالم نگار ہیں۔

Watch Live Public News