ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات سے قبل دھمکی آمیز پیغام سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر زیلنسکی کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کیلئے روس کی کچھ شرائط پر اتفاق کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اگر چاہیں تو روس کے ساتھ جنگ فوری طور پر ختم کر سکتے ہیں ، یا وہ لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ یاد رکھیں کہ کریمیا کی واپسی کے بارے میں سابق صدر اوباما کے دور میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اور یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا بھی کوئی آپشن نہیں تھا۔ کچھ باتیں کبھی نہیں بدلتی۔ اس لیے صدر زیلنسکی کریمیا کو چھوڑ دے اور کبھی بھی نیٹو میں شامل نہ ہونے پر راضی ہو جائے۔
ٹرمپ کا یہ پیغام زیلنسکی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے کیونکہ صدر پیوٹن نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں جنگ بندی کیلئے دو شرائط رکھیں تھیں۔ ایک یوکرین کریمیا کو چھوڑ دے ، جسے روس نے 2014 میں غیر قانونی طور پر الحاق کرلیا تھا ، اور دوسرا یہ کہ یوکرین کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔
زیلنسکی کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ یہ ملاقات ٹرمپ کے یوکرین کے رہنما پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوگی کہ وہ ان شرائط کو قبول کریں جو روسی صدر نے گذشتہ ہفتے الاسکا سربراہی اجلاس میں پیش کی تھیں۔
یورپی رہنما یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امن معاہدے کے تحت یوکرین کو کس طرح کی رعایت ملے گی اور امریکا اس صورتحال میں کس قسم کی سکیورٹی گارنٹی فراہم کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ کل وائٹ ہاؤس میں بڑا دن ہے ۔ ایک وقت میں اتنے یورپی رہنما کبھی نہیں آئے ۔ ان کی میزبانی کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
خیال رہے کہ یورپی وفد میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ، جرمن چانسلر فریڈرک مرز ، برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر ، اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی ، یورپی کمیشن کی صدر اروسولا وان ڈیر لیین ، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے شامل ہیں۔