صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق سکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کردی، امریکا

صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق سکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کردی، امریکا
کیپشن: صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق سکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کردی، امریکا

ویب ڈیسک: ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق سکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ صدر پیوٹن نے ٹرمپ کیساتھ الاسکا میں ہونے والی ملاقات میں پہلی بار اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین کو نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی سکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں۔ پیوٹن کی رضامندی یوکرین جنگ کے لیے ’گیم چینجر‘ ہے، یوکرین نیٹو رکنیت اسی سکیورٹی تحفظ کی وجہ سے چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت صدر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے ایجنڈے میں مرکزی موضوع ہوگی۔ جہاں تین سال سے زائد جاری جنگ کے خاتمے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرینی صدر اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات سے قبل دھمکی آمیز پیغام سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر زیلنسکی کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کیلئے روس کی کچھ شرائط پر اتفاق کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اگر چاہیں تو روس کے ساتھ جنگ فوری طور پر ختم کر سکتے ہیں ، یا وہ لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ یاد رکھیں کہ کریمیا کی واپسی کے بارے میں سابق صدر اوباما کے دور میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اور یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا بھی کوئی آپشن نہیں تھا۔ کچھ باتیں کبھی نہیں بدلتی۔ اس لیے صدر زیلنسکی کریمیا کو چھوڑ دے اور کبھی بھی نیٹو میں شامل نہ ہونے پر راضی ہو جائے۔

ٹرمپ کا یہ پیغام زیلنسکی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے کیونکہ صدر پیوٹن نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں جنگ بندی کیلئے دو شرائط رکھیں تھیں۔ ایک یوکرین کریمیا کو چھوڑ دے ، جسے روس نے 2014 میں غیر قانونی طور پر الحاق کرلیا تھا ، اور دوسرا یہ کہ یوکرین کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔

Watch Live Public News