ویب ڈیسک: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ بندی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم ان کے مطابق جنگ بندی کو قائم رکھنا ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔
ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی دنیا کے حساس مسائل میں شامل ہے اور جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب دونوں فریق لڑائی روکنے پر رضامند ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا روزانہ مختلف خطوں بشمول پاکستان، بھارت، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے حالات کا جائزہ لیتا ہے تاکہ وہاں امن قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے، خاص طور پر یوکرین جیسی صورتِ حال میں، لیکن ہمارا اصل مقصد محض وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک مستقل امن معاہدہ ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ موجودہ امریکی صدر نے امن کو اپنی انتظامیہ کی اولین ترجیح بنایا ہے اور امریکا دنیا بھر میں امن کے مواقع سے فائدہ اٹھاتا رہے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 10 مئی کو واشنگٹن میں ہونے والی طویل بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا اور اس کے بعد سے وہ تقریباً 40 بار کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔
تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہیں تھی اور نہ ہی اس کا تعلق تجارت سے ہے جیسا کہ امریکی صدر نے دعویٰ کیا۔