ویب ڈیسک: آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیزی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے نئی قانون سازی متعارف کرائے گی۔ یہ اعلان سڈنی کے معروف بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیرِاعظم البانیزی نے جمعرات کو کہا کہ حکومت نفرت اور تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی اور ایسے قوانین لائے جائیں گے جن کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمات چلانا آسان ہو جائے گا۔ ان کے مطابق سزاؤں میں سختی کی جائے گی، ویزا منسوخ یا مسترد کرنے کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ نفرت انگیز بیانات دینے والی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف بھی واضح قانونی طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا۔
Australian Prime Minister Anthony Albanese has announced new laws largely focused on "hate speech" and racism in response to the Bondi Islamic terrorist attack.
— The Noticer (@NoticerNews) December 18, 2025
They will include a new offence for "vilification based on race or racial supremacy".pic.twitter.com/wjGplpEAXy
یہ اعلان اتوار کے روز بونڈی بیچ پر پیش آنے والے حملے کے بعد کیا گیا، جہاں یہودی تہوار حنوکہ کی تقریبات کے دوران بھارت سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے نے فائرنگ کر دی۔ اس وقت ساحل پر سینکڑوں افراد موجود تھے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ بظاہر داعش سے متاثر تھا، جس نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔
وزیرِاعظم البانیزی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آسٹریلوی عوام شدید صدمے اور غصے میں ہیں اور میں خود بھی غصے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ معاشرے میں پھیلتی نفرت کے خلاف مزید سخت اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ ساجد اکرم (50 سال) اور اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم نے کیا۔ ساجد اکرم کو موقع پر پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، جبکہ نوید اکرم کو ہوش میں آنے کے بعد قتل اور دہشتگردی سمیت 59 الزامات کے تحت چارج کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقدمہ اپریل 2026 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حملہ آوروں کے آسٹریلیا میں موجود داعش نیٹ ورکس یا فلپائن میں شدت پسند گروہوں سے کوئی روابط تھے یا نہیں۔ فلپائن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ اگرچہ باپ بیٹا نومبر میں ایک ماہ کے لیے فلپائن میں موجود تھے، تاہم اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ انہوں نے وہاں عسکری تربیت حاصل کی ہو۔