آئی ٹی برآمدات میں بتدریج اضافہ انتہائی خوش آئند ہے، وزیراعظم 

آئی ٹی برآمدات میں بتدریج اضافہ انتہائی خوش آئند ہے، وزیراعظم 

(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں بتدریج اضافہ انتہائی خوش آئند ہے، آئی ٹی شعبے میں افرادی قوت کی تکنیکی تربیت، ٹیکس میں آسانیوں اور دیگر امور میں بہتری کے لیے حکومت سرگرم عمل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے کے حوالے سے بنائی گئے نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا، جس میں  وزیراعظم کو معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیراعظم  نے آصف پیر کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کا خیر مقدم  کیا۔

وزیر اعظم  نے کہا کہ  معاشی مسائل کے باوجود ملکی آئی ٹی شعبے نے ترقی کی، آئی ٹی برآمدات میں بتدریج اضافہ انتہائی خوش آئند ہے، آئی ٹی شعبے میں افرادی قوت کی تکنیکی تربیت، ٹیکس میں آسانیوں اور دیگر امور میں بہتری کے لیے حکومت سرگرم عمل ہے، آئی ٹی کی تکنیکی تربیت کے لیے تمام اقدامات پاکستانی نوجوانوں کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں بطور تجربہ کار افرادی قوت متعارف کرانے پر مرکوز ہیں۔

 وزیراعظم  شہباز شریف نے ہدایت کی کہ  نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مزید اقدامات لیے جائیں،انہوں نے ملک میں آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ   ڈیجیٹل معیشت کی ترویج صارفین کی انٹرنیٹ تک رسائی پر منحصر ہے۔

وزیراعظم  نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات کا جائزہ لے کر دو ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے، ائی برآمدات میں اضافے اور آئی ٹی شعبے میں دیگر اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔

اجلاس میں ڈیٹا پر مبنی گوورننس ماڈل کی تشکیل پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں برآمدات کے لیے مارکیٹ شیئر بڑھانے، پاکستان سافٹویئر ایکسپورٹ بورڈ کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، ای روزگار سکیم اور سٹارٹ اپ اینوویشن ایکوسسٹم جیسے اقدامات پر نجی شعبے کی جانب سے حکومتی اقدامات کی تعریف کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Watch Live Public News