ویب ڈیسک: اغوا کے بعد دوست کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں عدالت نے ملزم ارمغان کے پولیس ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے اے ٹی سی عدالت میں میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس ظفر راجپوت نے مصطفیٰ قتل کیس کی سماعت کی جس دوران سرکاری وکیل اور کیس کے سابق تفتیشی افسر سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ملزم ارمغان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوران سماعت عدالت نے سوال کیا کہ اب کیس کا تفتیشی افسر کون ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ محمد علی اب کیس کے تفتیشی افسر ہیں جس پر عدالت نے انہیں طلب کرلیا۔
عدالت نے کیس کے سابق تفتیشی افسر امیر اشفاق سے سوال کیا میڈیکل کا لیٹر کہاں ہے؟ سابق تفتیشی افسر نے جواب دیا مجھے کوئی لیٹر نہیں ملا تھا، عدالت نے سوال کیا آپ نے کوئی لیٹر دیا تھا ایم ایل او کو، وہ کہاں ہے؟ یہ لیٹر کیوں دیا تھا آپ نے؟
سابق تفتیشی افسر نے جواب دیا ایڈمنسٹریٹر جج صاحب نےمجھے زبانی احکامات دیے تھے، اس موقع پر عدالت نے کہا جیل کسٹڈی کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہوگئی تھی۔
دوران سماعت رجسٹرار انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اور موجودہ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں پہلے پولیس ریمانڈ دیا گیا تھا اور شام 7 بجے جیل کسٹڈی کی ہے۔
اس پر جسٹس ظفر نے ریمارکس دیے کہ پولیس کسٹڈی ریمانڈ پر وائٹو لگا کر اسے جیل کسٹڈی کردیا گیا ہے، پولیس ابھی تک لکھا ہوا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے ملزم ارمغان کے پولیس ریمانڈ کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ریمانڈ کے لیے آج ہی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو اغوا، قتل، اور دیگرالزامات میں ریمانڈ کے لیے اےٹی سی میں پیش کیا جائے۔
ملزم ارمغان کا تشدد کا الزام
سندھ ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ نہ دیے جانے کے خلاف محکمہ پراسیکیوشن کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کسٹڈی کہاں ہے؟ جس پر ارمغان کو پیش کردیا گیا۔
اس کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ چھ جنوری کو مصطفیٰ عامر کو اغوا کیا گیا اور مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، درخشاں تھانے کے پولیس افسر نے مصطفیٰ کی والدہ کا بیان ریکارڈ کیا، 13جنوری کو تاوان کی کال کے بعد مقدمہ اے وی سی سی کو منتقل ہوا۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم سے مغوی کا ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔
اس دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم پہلے کب مقدمات میں مفرور تھا؟ جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم کا سی آر او پیش کیا گیا ہے، پانچ مقدمات ملزم کے خلاف درج ہیں، ملزم بوٹ بیسن تھانے کے بھتے کے کیس میں مفرور ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پولیس کسٹڈی کی درخواست کس بنیاد پر مسترد کی گئی؟ کیا تشدد کیا گیا؟ جس پر ملزم ارمغان نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ دکھائیں نشانات کہاں ہیں، ملزم کی شرٹ اتاریں اور دکھائیں۔ جس کے بعد ملزم کی شرٹ اتار کر دکھائی گئی تو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ تشدد کا کوئی نشان نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر تشدد کی شکایت تھی تو میڈیکل چیک اپ کا آرڈر کرتے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل منے کہا کہ ریمانڈ پراسیکیوشن کا حق تھا، کیا ملزم نے جیل میں درد کی شکایت کی ہے؟ کیا جیل میں علاج یا معائنے کی درخواست دی تھی؟
جس پر ملزم ارمغان نے کہا کہ میں شاک میں تھا۔
ملزم ارمغان عامر مصطفیٰ قتل سے مکر گیا
ملزم ارمغان عدالت میں مصطفیٰ عامر کے قتل سے مکر گیا۔ ارمغان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں نے مصطفیٰ کو نہیں مارا مجھے پھنسایا جارہا ہے۔
صحافی نے جب ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ پولیس پر فائرنگ کیوں کی؟ تو جواب میں اس نے کہا کہ میرے گھر پر ڈکیتی مار رہے تھے۔