ویب ڈیسک : اسرائیلی کابینہ نے امن معاہدے کی منظوری دیدی ۔۔ رہا کئے جانیوالے 95 فلسطینی قیدیوں کے نام شائع کردئیے گئے۔ باہمی رہائی کا عمل کل دوپہر بارہ بجے سے شروع ہوگا۔
فلسطینی قیدیوں کی رہائی دوپہر 2 بجے اسرائیلی یرغمالی 12 بجے رہا ہوں گے
اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی میں 15 سے زائد تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے پہلے تبادلے کے عمل کے ایک حصے کے طور پر 95 فلسطینی قیدیوں کے نام شائع کردیے، ان فلسطینی قیدیوں کو اتوار سے رہا کر دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اتوار 16:00 بجے ( 14:00 بجے) سے پہلے نہیں ہوگی۔ جبکہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی دوپہر 12 بجے سے شروع ہوگی۔
ٹرمپ کے بغیر امن معاہدہ ناممکن، حماس
دوسری طرف فلسطینی تحریک حماس کے ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ 15 ماہ کی جنگ کے بعد ہونے والے اس معاہدے کے پیچھے نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کا ہاتھ ہے۔ حماس کے رہنما باسم نعیم نے کہاہے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔
اسرائیلی کابینہ کی چھ گھنٹے سے زائد میٹنگ کے بعد، حکومت نے یروشلم میں مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح 1 بجے کے قریب اس ڈیل کا اعلان کیا۔
اس سے قبل اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے جمعہ کو اس معاہدے کو منظور کرنے کی سفارش کی تھی۔سیکیورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد اب یہ معاملہ جمعے کو ہی اسرائیل کی فل کیبنٹ کے سامنے رکھاگیا تھا۔
’’ یوم سبت’’ پر معاہدے کی منظوری
اسرائیلی کابینہ نے گھنٹوں طویل مشاورت کے بعد ’یوم السبت‘ کو اس معاہدے کی مںظوری دی۔ یہودیت میں یوم السبت یعنی سنیچر کو کام نہیں کیا جاتا اور اسرائیل کے قانون کے مطابق اس روز صرف نہایت ہنگامی نوعیت کے سرکاری کام کیے جا سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کو مذاکراتی ٹیم نے آگاہ کر دیا ہے کہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے معاہدہ ہو چکا ہے۔
معاہدے کی مختصر تفصیل
اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں چھ ہفتوں کی جنگ بندی ہو گی اور اس دوران حماس اتوار کو 33 یرغمالوں کو رہا کرے گی جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور زخمی شامل ہیں۔ اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی آزاد کر دیے جائیں گے اور غزہ کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
اسی عرصے کے دوران دوسرے مرحلے میں تنازع کے مکمل خاتمے، غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور بقیہ یرغمالوں کی واپسی کے امور پر مذاکرات ہوں گے۔
معاہدے کے تحت تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں حکومتی و سیکیورٹی انتظام پر بات ہو گی۔