ویب ڈیسک: غیر سرکاری تنظیم رویتِ ہلال ریسرچ کونسل نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں پیر 19 جنوری 2026ء کی شام شعبان المعظم کے چاند کی رویت ممکن نہیں ہوگی، جس کے نتیجے میں شعبان المعظم 1447ھ کا آغاز بدھ 21 جنوری 2026ء سے ہونے کا امکان ہے۔
رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نیا چاند اتوار 18 اور پیر 19 جنوری 2026ء کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پیر 19 جنوری کو غروبِ آفتاب کے وقت پاکستان کے تمام علاقوں میں چاند کی عمر 18 گھنٹوں سے کم ہوگی، جبکہ ہلال کی رویت کے لیے کم از کم 19 گھنٹے کی عمر ضروری ہوتی ہے۔
خالد اعجاز مفتی کا کہنا تھا کہ غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان وقت کا فرق بھی رویت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترے گا۔ گلگت اور مظفر آباد میں یہ فرق 29 منٹ، پشاور، اسلام آباد، لاہور اور چارسدہ میں 30 منٹ، کوئٹہ میں 31 منٹ جبکہ کراچی اور جیوانی میں 33 منٹ ہوگا، جبکہ ہلال کی رویت کے لیے کم از کم 40 منٹ کا فرق ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ریسرچ کونسل کے مطابق ان سائنسی شواہد کی بنیاد پر مطلع صاف ہونے کی صورت میں بھی پیر 19 جنوری 2026ء کی شام نہ انسانی آنکھ سے، نہ دوربین اور نہ ہی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چاند دیکھنا ممکن ہوگا۔ اس طرح رجب المرجب کے 30 دن مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں شعبان المعظم 1447ھ کا آغاز بدھ 21 جنوری 2026ء سے متوقع ہے۔
واضح رہے کہ شعبان المعظم کے چاند کی رویت کا حتمی اور شرعی اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔