پاکستان اور ازبکستان کا توانائی کے شعبے میں تعاون اور ترقی

پاکستان اور ازبکستان کا توانائی کے شعبے میں تعاون اور ترقی
کیپشن: پاکستان اور ازبکستان کا توانائی کے شعبے میں تعاون اور ترقی

ویب ڈیسک:وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ تاشقند کے کامیاب دورے نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی اور اقتصادی تعلقات کو نئی جہت عطا کی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جس سے مستقبل میں اقتصادی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹریٹجک انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی سہولت کاری سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جن سے دونوں ممالک بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم، جناب علی پرویز ملک نے پاکستان میں تعینات ازبکستان کے سفیر، جناب علی شیر توختایف سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیل و گیس کے شعبے میں تعاون، مشترکہ ایکسپلوریشن وینچرز، اور تکنیکی تربیتی پروگراموں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفیر علی شیر توختایف نے اس بات پر زور دیا کہ ازبکستان میں پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبہ جات اور تربیتی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تیل و گیس کے شعبے میں تعاون خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے توانائی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے ایک "ورکنگ گروپ" بنانے کا اعلان کیا، جو مشترکہ تلاش، تحقیق اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کو عملی شکل دے گا۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں یہ بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے لیے مفید ہے بلکہ پورے خطے کی توانائی سلامتی اور اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

Watch Live Public News