ویب ڈیسک: وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) میگا کرپشن اسکینڈل میں چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو تمام مقدمات سے بری کر دیا ہے۔
کراچی کی اینٹی کرپشن کورٹ میں ٹڈاپ کیسز کی سماعت کے دوران عدالت نے 14 مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گیلانی کے خلاف شواہد ناکافی ہیں اور ان کے اکاؤنٹس میں کرپشن کی کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وعدہ معاف گواہ کو بھی ملزم بنا دیا گیا اور بعض مقدمات کا ریکارڈ تاحال ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔
یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی پر ٹڈاپ اسکینڈل میں مجموعی طور پر 26 مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں سے وہ پہلے ہی 12 کیسز میں بری ہو چکے تھے، جبکہ آج انہیں باقی 14 کیسز میں بھی بری کر دیا گیا ہے۔
یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف تمام کیسز ایک ہی نوعیت کے تھے، اور یہ تمام الزامات جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ ملک میں کریمنل قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ بے گناہ افراد برسوں تک جیلوں میں نہ سڑتے رہیں، اور اگر کسی مقدمے کا فیصلہ مقررہ وقت میں نہ ہو تو کیس ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے سپیشل کورٹس کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، مگر عدالت نے آج انہیں باعزت بری کر کے حق و سچ کی جیت دلائی۔ انہوں نے فاروق ایچ نائیک کی قانونی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے یہ مقدمات بنائے، وہ ان کے سیاسی اتحادی ہیں اور وہ انہیں چھوڑ نہیں سکتے، تاہم قانون میں ایسی اصلاحات ہونی چاہئیں کہ بغیر فیصلے کے مقدمات لٹکتے نہ رہیں۔