معروف اسٹنٹ مین پیراگلائیڈنگ کے دوران جاں بحق

معروف اسٹنٹ مین پیراگلائیڈنگ کے دوران جاں بحق

ویب ڈیسک: دنیا کے مشہور آسٹریائی اسٹنٹ مین فیلکس باؤم گارٹنر ایک المناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کی موت پیراگلائیڈنگ کے دوران ہوئی، اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ فضا میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث قابو کھو بیٹھے۔

رپورٹس کے مطابق ایک معروف سیاحتی ریزورٹ پر  55 سالہ فیلکس باؤم گارٹنر  پیراگلائیڈنگ جمپ کے لیے تیار تھے۔ روانگی سے کچھ دیر قبل انہوں نے طبیعت کی خرابی کی شکایت کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پیراگلائیڈنگ جمپ کا ارادہ ترک نہ کیا۔

حادثے کا منظر نہایت دل دہلا دینے والا تھا۔ فیلکس کا پیراگلائیڈر قابو سے باہر ہو گیا اور وہ سیدھے ایک مصروف پول ایریا میں آ گرے، جہاں اس وقت درجنوں افراد موجود تھے۔ اس واقعے میں ریزورٹ کا ایک ملازم بھی شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

عینی شاہدین اور ابتدائی طبی جائزے کے مطابق شبہ ہے کہ فیلکس باؤم گارٹنر کو فضا میں ہی دل کا دورہ پڑا، جس کے باعث وہ پیراگلائیڈر پر قابو نہ رکھ سکے۔ حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ان کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا جا رہا ہے۔

فیلکس باؤم گارٹنر کو عالمی شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 2012 میں دنیا کا پہلا سپر سونک اسکائی ڈائیو کیا۔ انہوں نے 39 کلومیٹر (تقریباً 128,000 فٹ) کی بلندی سے چھلانگ لگائی تھی، جس سے وہ زمین کی سطح پر آواز کی رفتار سے تیز سفر کرنے والے پہلے انسان بنے۔

ان کا شمار دنیا کے بہادر ترین اسٹنٹ مینوں میں کیا جاتا ہے، اور وہ متعدد خطرناک اسٹنٹس میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر چکے تھے۔

Watch Live Public News