ٹرمپ اور اسرائیلی دھمکیوں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا سخت ردعمل

ٹرمپ اور اسرائیلی دھمکیوں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا سخت ردعمل
کیپشن: ٹرمپ اور اسرائیلی دھمکیوں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا سخت ردعمل

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی دھمکیوں کے بعد ایران نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" پر جاری ایک بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران صیہونی دہشتگرد ریاست کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرے گا اور دشمن کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ صیہونیوں نے خطے میں بدامنی پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے جرائم کا سخت حساب لیا جائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران سے "مکمل سرنڈر" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کسی قسم کے مذاکرات میں دلچسپی نہیں، بلکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا "مکمل خاتمہ" چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایرانی سپریم لیڈر کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں معلوم ہے آیت اللہ خامنہ ای کہاں ہیں، وہ "آسان ہدف" ہیں، لیکن فی الحال ان کے قتل سے گریز کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔

ایران کی قیادت کے حالیہ بیانات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ تہران اب مزید دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر دشمن نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو سخت جوابی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

Watch Live Public News