ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کم کر کے 18 فیصد سے 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نائب وزیراعظم و سینیٹر اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کا اعلان کیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور حکومت نے بعض بجٹ تجاویز پر نظرثانی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے جبکہ بعض امور پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس کا اختیار صوبوں کے پاس ہوگا اور چاروں صوبوں میں پی آئی ڈی سی ایل (PIDCL) منصوبے مکمل کرے گی جو کہ پی ڈبلیو ڈی (PWD) کا متبادل ادارہ ہے۔
سولر انڈسٹری کیلئے ریلیف
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملک میں استعمال ہونے والے سولر سسٹمز کا 46 فیصد سامان درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے اور متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ حاصل ہو۔
سندھ کی جامعات کیلئے فنڈز میں اضافہ
نائب وزیراعظم نے اعلان کیا کہ سندھ کی یونیورسٹیوں کیلئے مختص بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم 2 ارب 60 کروڑ روپے سے بڑھا کر 4 ارب 60 کروڑ روپے کر دی گئی ہے تاکہ تعلیمی شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔
اسرائیل-ایران کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف
اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اسرائیل و ایران تنازع کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں او آئی سی کے دو درجن سے زائد رکن ممالک نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگر ایران اسرائیل جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔