ویب ڈیسک: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس سفارتی کامیابی پر صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان جنگ، دہشت گردی اور عدم استحکام کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے، اسی لیے ملک امن اور استحکام کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کے باوجود خطے میں مکمل امن قائم نہیں ہوا اور اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو کشیدگی اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بیرونی قوتیں دہشت گردی کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بھارت کی جانب سے بھی اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بجٹ اور مالیاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کے مطابق آئین صوبوں کو وفاق کی معاونت کا اختیار دیتا ہے اور حالیہ فیصلے بھی آئینی تقاضوں کے مطابق کیے گئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران اٹھارویں آئینی ترمیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں، تاہم سیاسی جماعتوں نے باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے جمہوری حل نکالا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ برقرار رہے گا اور آئندہ دو سے تین سال کے عبوری انتظامات کے علاوہ صوبوں پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے قومی مفاد، معاشی استحکام اور ملکی دفاع کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی مشاورت سے کیے گئے ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی آپ نے انہیں تحصیل دار کا غلام بنا دیا۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان سے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کو بینظیر شہید نے آگے بڑھایا۔ گلگت بلتستان کے حق حاکمیت، روزگار کے لئے پیپلز پارٹی جدوجہد کرے گی۔ وہ لوگ جنہوں نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی ہم کب تک انہیں آئینی حقوق سے محروم رکھیں گے۔ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے پر بحث ہونی چاہیے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو عبوری طور پر اجازت دی جائے کہ ان کے منتخب اراکین یہاں آ کر بیٹھیں۔ حق خود ارادیت پر رائے شماری تک گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبے پر غور کیا جائے۔
بلاول نے کہا کہ صوبہ سندھ نے گزشتہ دو برس میں تقریباً 700 ارب سرپلس دکھایا ہے۔ ہر صوبے کے اپنے مسائل اور مشکلات ہیں۔ ملک اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے باعث خطرات کا شکار ہے۔ صوبوں نے طے کیا ہے کہ غیر معمولی وقت میں وفاق کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ صوبہ خیبرپختونخواہ نے بھی سیاسی مسائل کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو سراہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر معاشی نمو کی جانب جانے والی پالیسی بنائیں۔