داعش کے کارندےشریف اللہ کاکابل،ماسکومیں دھماکوں میں ملوث ہونے کااعتراف

داعش کے کارندےشریف اللہ کاکابل،ماسکومیں دھماکوں میں ملوث ہونے کااعتراف
کیپشن: داعش کے کارندےشریف اللہ کاکابل،ماسکومیں دھماکوں میں ملوث ہونے کااعتراف

ویب ڈیسک: داعش کے کارندے شریف اللہ کا   کابل اور ماسکو میں دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف۔۔امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے شدت پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کے کارندے نے کابل ایئر پورٹ کے گیٹ پرحملے کیلئے خودکش بمبار کی مدد  کی۔ 2024 میں ماسکو میں کنسرٹ ہال پر حملے میں براہ راست ملوث ہے۔ شریف اللہ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آئی نے افغان شہری محمد شریف اللہ پر عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ-خراسان (IS-K) گروپ کو کابل ہوائی اڈے اور ماسکو کنسرٹ ہال دھماکوں میں  مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کردیا۔

رپورٹ کے مطابق شریف اللہ نے 2021 کے کابل ہوائی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے اور 2024 کے ماسکو کنسرٹ ہال حملے دونوں میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ سیٹھ پارکر کے دستخط شدہ حلف نامے کے مطابق، شریف اللہ نے کابل ایئرپورٹ پر ایبی گیٹ بم دھماکے میں براہ راست سہولت کاری کا اعتراف کیا۔ شریف اللہ نے عرفان نامی خودکش حملہ آور کو تیار کرکے   کابل ائیرپورٹ تک پہنچایا۔

ایف بی آئی کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شریف اللہ کو بمباری سے چند ہفتے قبل افغان جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ آئی ایس-کے نے فوری طور پر رابطہ  کرکے اسے ایک موٹرسائیکل، سیل فون کے لیے رقم اور ایک سم کارڈ دیا تھا۔ 

فاکس نیوز اور نیویارک پوسٹ نے رپورٹ کیاہے کہ سیٹھ پارکر نے شریف اللہ کے مؤقف سے اتفاق کیا کہ وہ بم دھماکے کے "اعلیٰ سطحی منصوبہ سازوں میں سے ایک نہیں تھا"۔

پارکر کا یہ زبانی بیان ان کے تحریری بیان سے متصادم ہے، جو اسے ماسٹر مائنڈ نہ کہتے ہوئے، واضح طور پر اس کے لاجسٹک اور آپریشنل کردار کی تصدیق کرتا ہے۔

یادرہے صدر ٹرمپ نے کانگریس سے حالیہ خطاب میں شریف اللہ کو بم دھماکے کا "سب سے بڑا دہشت گرد" قرار دیا۔ 

اپنے  بیان میں شریف اللہ نے بتایا کہ اسے IS-K کے ایک معروف رہنما کی طرف سے ایک حکم ملا تھا کہ وہ ماسکو میں حملہ آوروں کے لیے کلاشنکوف رائفلوں کی ٹریننگ دے۔ جس پر اس نے کئی افراد کے ساتھ ویڈیو ہدایات شیئر کیں۔ گرفتار حملہ آوروں میں سے دو افراد وہی تھے۔ جنہیں اس نے تربیت دی تھی۔

یاد رہے 22 مارچ 2024 کو ماسکو میں کروکس سٹی ہال حملے میں تقریباً 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے آزادانہ طور پر شریف اللہ کا سراغ نہیں لگایا اور گرفتار نہیں کیا۔ یہ امریکی انٹیلی جنس تھی کہ شریف اللہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو گا اور واشنگٹن نے اسے پکڑنے اور امریکا بھیجنے میں اسلام آباد سے مدد مانگی تھی۔

شریف اللہ پر ایک امریکی قانون کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے جو ایک نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مالی مدد فراہم کرنے کو جرم قرار دیتا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر اسے زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جبکہ صدر ٹرمپ اور امریکی حکام نے اس کی گرفتاری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، ایف بی آئی کے سرکاری بیان اور کمرہ عدالت کے ریمارکس کے درمیان تضادات بتاتے ہیں کہ اس کا صحیح کردار ابھی بھی قانونی جانچ پڑتال کے تحت ہے۔

Watch Live Public News