ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ملک بھر میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی جانب سے گزشتہ برس طلبہ تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر حسینہ واجد کو مجرم قرار دینے اور سزائے موت کا حکم سنانے کے بعد ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں احتجاج بھڑک اٹھے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق فیصلے کے بعد عوامی لیگ کے کارکنوں، طلبہ گروپوں اور پولیس کے درمیان متعدد علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے ڈھاکا کی اہم سڑکیں بند کر دیں جبکہ پولیس نے صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے آنسو گیس، ساؤنڈ گرینیڈ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا ویڈیوز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم اور مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
Latest visuals from Dhanmondi-32,
— War & Gore (@Goreunit) November 17, 2025
Radical mob attacked police. Radicals have come with Buldozer to demolish the house of Sheikh Hasina. https://t.co/MBC06TiH1A pic.twitter.com/hFaukI2NC5
ڈھاکا کا علاقہ دھان منڈی 32، جہاں شیخ مجیب الرحمان اور شیخ حسینہ کا آبائی گھر واقع ہے، شدید تنازع کا مرکز بن گیا۔ مشتعل مظاہرین نے بلڈوزر کے ساتھ گھر کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
صورتحال اُس وقت مزید بگڑ گئی جب عوامی لیگ کے کارکنوں کی جھڑپیں جتیا چھاترا شکتی نامی طلبہ تنظیم سے شروع ہو گئیں، جو گزشتہ سال حکومت مخالف تحریک کی کوآرڈی نیٹر سمجھی جاتی ہے۔
Dhaka, Bangladesh: The radical mob has reached Dhanmondi 32 (Bangabandhu Memorial Museum) with Buldozer to demolish it.
— War & Gore (@Goreunit) November 17, 2025
Once it was the personal residence of Sheikh Mujibur Rahman. pic.twitter.com/nJNZYBTBLI
اس کے ساتھ ساتھ گوپال گنج کے علاقے کوٹالی پارا میں بدامنی میں اچانک اضافہ ہوا۔ نامعلوم افراد نے اپازِلا پریشد پر رات 9 بجے اور تھانے پر 10:30 بجے دیسی ساختہ بم (کاک ٹیل) پھینکے، جس سے تین پولیس اہلکار — ایرین نہار، عارف حسین اور نذرالاسلام — زخمی ہوئے۔ اسپتال حکام کے مطابق زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئیں اور ابتدائی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
ٹریبونل نے 78 سالہ حسینہ واجد کو تین سنگین الزامات — تشدد پر اکسانا، مظاہرین کو قتل کرنے کے احکامات دینا اور طلبہ احتجاج کے دوران مظالم نہ روکنا — میں مجرم قرار دیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کو بھی سزائے موت سنائی گئی، جبکہ سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المامون نے ریاستی گواہ بن کر جرم قبول کیا، جس پر اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ آئندہ سال فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
شیخ حسینہ نے فیصلے کو ’’جانبدار اور سیاسی انتقام‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کا کہنا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
حکومتِ بنگلہ دیش نے بھارت کو خط لکھ کر شیخ حسینہ اور ان کے ساتھی کمال کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جن پر طلبہ قتل عام میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔