(ویب ڈیسک ) کالعدم انتہا پسند جماعت کے عہدے داروں کے 23 ارب 40 کروڑ کے اثاثے منجمد کردیے گئے۔
وزیر اعلی مریم نواز کی زیرِ صدارت امن و امان پر غیرمعمولی اجلاس ہوا۔ پنجاب حکومت نے باقی صوبوں میں بھی کالعدم انتہا پسند جماعت کے خلاف پنجاب جیسی یکساں کاروائی کے لئے وفاقی حکومت سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلی مریم نواز نے کومبنگ آپریشن مستقل جاری رکھنے کا حکم دیا۔سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف مواد شئیر کرنے پر 31مقدمات درج کیے گئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مساجد اور آئمہ کرام کے لیے 61 ہزار سے زائد فارم تقسیم کیے گئے۔پنجاب میں 50 ہزار سے زائد آئمہ کرام نے خود اپنی رجسٹریشن کر کے امن اور قانون کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کیا۔
پنجاب میں آئمہ کرام کی 82 فیصد رجسٹریشن مکمل کرلی گئی۔جس پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اطمینان کا اظہار کیا۔
پنجاب میں امن کی مضبوطی کے لیے پانچ بڑے وفاق المدارس نے مساجد/ آئمہ کرام کی رجسٹریشن پر اتفاقِ رائے کیا۔
وزیراعلی مریم نواز نےآئمہ کرام کو پریشان نہ کرنے اور احترام ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام نماز پڑھاتے ہیں ،نہیں چاہتے کہ وہ چندے کے لئے ہاتھ پھیلائیں ۔
پنجاب کے کسی شہر میں وال چاکنگ برداشت نہیں کی جائے گی ۔ پنجاب حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو صوبہ بھر میں وال چاکنگ پر مکمل پابندی کے مستقل نفاذ کے لئے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب حکومت نے پنجاب کے عوام کی جانب سے انتہاپسندی اور فتنہ انگیزی کو یکسر مسترد کرنے پر اظہار اطمینان کیا۔
اجلاس میں پنجاب میں اسلحہ لے چلنے کے لئے ایس او پیز وضح کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلی مریم نواز نے اسلام آباد حملے کے پیش نظر سرویلنس مزید بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ میں ڈرون سرویلنس کی ہدایت بھی کی ہے۔اس کے علاوہ مریم نواز نے ہراسانی کے واقعات کی ڈرون سرویلنس کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔