ویب ڈیسک: سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اور ہمہ جہتی تعاون کا عکاس قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ کسی وقتی صورتحال یا مخصوص واقعے کے ردعمل کے طور پر سامنے نہیں آیا بلکہ یہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک سوچ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی عہدیدار نے وضاحت کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ جامع نوعیت کا حامل ہے، جو فوجی وسائل، تعاون، تربیت اور مشترکہ حکمت عملی سمیت مختلف پہلوؤں کو محیط کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد صرف موجودہ دفاعی چیلنجز کا سامنا کرنا نہیں بلکہ خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ" (SMDA) پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ نگرانی طے پایا، جسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف اپنے عوام کی سلامتی کو ترجیح دیں گے بلکہ خطے میں کسی بھی جارحیت یا خطرے کے مقابلے کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کریں گے۔
معاہدے کی شقوں کے مطابق اگر کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کی جاتی ہے تو اسے دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے لیے اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، اسٹریٹجک اور سفارتی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے بھی ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا۔