سعودی عرب سے دفاعی معاہدے سے پاکستان کتنا مضبوط ہوگیا؟

سعودی عرب سے دفاعی معاہدے سے پاکستان کتنا مضبوط ہوگیا؟
کیپشن: سعودی عرب سے دفاعی معاہدے سے پاکستان کتنا مضبوط ہوگیا؟

ویب ڈیسک: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ خطے کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ماہرِ امورِ خارجہ مائیکل کوگل مین نے اس معاہدے کو پاکستان کے لیے نہایت اہم قرار دیا ہے کیونکہ سعودی عرب خطے میں بھارت کا قریبی شراکت دار بھی سمجھا جاتا ہے۔

مائیکل کوگل مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ معاہدہ براہِ راست بھارت کو پاکستان پر حملے سے باز رکھنے کی ضمانت نہیں دیتا، تاہم یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب تین اہم طاقتوں—چین، ترکیہ اور سعودی عرب—کی واضح حمایت حاصل کر چکا ہے، جس سے اس کی خطے میں پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب جیسے قریبی اتحادی کی شمولیت پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو بڑھا دے گی اور یہ تعاون محض عسکری نہیں بلکہ سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر بھی اثرانداز ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں ’’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘‘ (SMDA) پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں فوجی تعاون، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے تناظر میں۔ مبصرین کے مطابق سعودی عرب اپنی عالمی سلامتی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے تاکہ امریکا پر انحصار کم کرتے ہوئے خطے میں متوازن پالیسی اختیار کی جا سکے۔

اگرچہ معاہدے میں ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر شامل نہیں ہے، لیکن چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس تعاون کا دائرہ اس پہلو کو بھی چھو سکتا ہے۔

 دوسری جانب بھارت نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس معاہدے سے اس کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Watch Live Public News