امریکا کا چین پر نیا اقتصادی وار: چینی بحری جہازوں پر فیس عائد

امریکا کا چین پر نیا اقتصادی وار: چینی بحری جہازوں پر فیس عائد
کیپشن: امریکا کا چین پر نیا اقتصادی وار: چینی بحری جہازوں پر فیس عائد

ویب ڈیسک: امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی۔ امریکی حکومت نے چینی بحری جہازوں پر نئی فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی حکام نے چینی جہاز سازی کی صنعت کے تسلط کو چیلنج کرنے اور اپنے ملک میں اس صنعت کو دوبارہ فروغ دینے کی غرض سے چینی بحری جہازوں پر پورٹ فیس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 14 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

اس پالیسی کے تحت چین کے زیرِ ملکیت اور زیرِ انتظام بحری جہازوں سے فی نیٹ ٹن 50 ڈالر چارج کیا جائے گا، اور یہ فیس ہر سال 30 ڈالر کے اضافے کے ساتھ بڑھتی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں وہ جہاز جو چین میں تیار تو ہوئے ہیں مگر ان کی ملکیت غیر چینی کمپنیوں کے پاس ہے، ان سے ابتدائی طور پر فی نیٹ ٹن 18 ڈالر وصول کیے جائیں گے، جن میں ہر سال 5 ڈالر کا اضافہ ہوگا۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام تجارتی ماحول کو مزید بوجھل کر سکتا ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ عائد کی جانے والی فیس پہلے مجوزہ شرح کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ ابتدائی تجاویز میں ہر چینی جہاز پر ایک ہی دورے کے لیے 15 لاکھ ڈالر فیس لگانے کی بات کی گئی تھی۔

امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کے مطابق، " چین نے میری ٹائم انڈسٹری میں غیر معمولی غلبہ حاصل کر لیا ہے، جس کا براہِ راست نقصان امریکی کمپنیوں، مزدوروں اور معیشت کو ہوا ہے۔"

فیس کا تعین جہازوں کے سائز، وزن، کنٹینرز کی تعداد یا ان پر موجود گاڑیوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ بلک کارگو جہازوں سے ان کے سامان کے مطابق فی ٹن کے حساب سے فیس لی جائے گی، کنٹینر بردار جہازوں پر فی کنٹینر، جبکہ گاڑیاں لے جانے والے جہازوں پر فی گاڑی 150 ڈالر فیس لاگو ہوگی۔

ہر جہاز سے یہ فیس ایک دورے کے لیے ایک مرتبہ لی جائے گی اور سالانہ زیادہ سے زیادہ پانچ دوروں پر فیس عائد ہوگی۔

امریکی حکام نے چند مخصوص جہازوں کو اس فیس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، جن میں وہ خالی بحری جہاز شامل ہیں جو امریکی بندرگاہوں پر کوئلہ یا گندم جیسی اشیاء لے کر جاتے ہیں۔ اسی طرح امریکا کی داخلی بندرگاہوں یا امریکی علاقوں جیسے کیریبیئن جزائر کی جانب سفر کرنے والے جہازوں کو بھی فیس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

چینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ فیس نہ صرف امریکی صارفین پر مہنگائی کا بوجھ ڈالے گی بلکہ امریکا کی اپنی جہاز سازی صنعت کو بھی بحال نہیں کر سکے گی۔"

مزید برآں، امریکی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز تین سال بعد کیا جائے گا، جس میں امریکی ساختہ ایل این جی بردار جہازوں کو ترجیح دی جائے گی اور آئندہ 22 برسوں میں بتدریج مزید تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

Watch Live Public News