غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،مزید 64 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،مزید 64 فلسطینی شہید
کیپشن: غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،مزید 64 فلسطینی شہید

ویب ڈیسک: اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں غزہ میں بدستور جاری ہیں،  تازہ حملوں میں مزید 64 بے گناہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جمعے کی صبح سے لے کر شام تک غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں شدید جانی نقصان ہوا۔ جنوبی شہر خان یونس میں ایک دکان پر بمباری سے 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک ہی خاندان کے 10 افراد بھی خان یونس ہی میں شہید ہوگئے۔ زیتون محلے میں 7 مزید فلسطینیوں کی شہادت کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کا انتباہ: غزہ میں خوراک کا بحران شدت اختیار کرگیا

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں لاکھوں افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں اور فوری خوراک کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

560 دن کی تباہی: جانی و مالی نقصانات کی دل دہلا دینے والی تفصیلات

غزہ میڈیا آفس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے غزہ میں 12 ہزار سے زائد مرتبہ اجتماعی قتل عام کیا۔ ان حملوں میں اب تک 51 ہزار 65 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 18 ہزار بچے اور 12 ہزار 400 خواتین شامل ہیں۔

شہید ہونے والوں میں 1,402 طبی عملے کے ارکان، 113 شہری دفاع کے اہلکار، 211 صحافی، 748 سیکیورٹی اہلکار اور 13 ہزار طالب علم بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ 2,172 فلسطینی خاندان مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے، جن کے افراد کی مجموعی تعداد 6,180 تھی۔

ہزاروں افراد لاپتہ، اجتماعی قبریں، اور لاکھوں بے گھر

غزہ میں اب بھی 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں جبکہ 529 شہدا کی لاشیں 7 اجتماعی قبروں سے برآمد کی گئی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 16 ہزار 505 ہو چکی ہے، جن میں 409 صحافی بھی شامل ہیں۔ جنگ کے متاثرین میں 60 فیصد سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں، جبکہ 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ

ادھر، جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ڈرون حملہ کیا جس میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا ہدف حزب اللہ کا ایک سینئر کمانڈر تھا جسے نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔

حماس نے اسرائیل کی عبوری جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی عبوری جنگ بندی کی تجویز کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ صرف ایک مکمل اور جامع معاہدے کے تحت تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر آمادہ ہے۔

حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے بیان دیا کہ "ہم اسرائیل میں قید فلسطینیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے کے بدلے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کو تیار ہیں، لیکن وقتی یا جزوی جنگ بندی کسی صورت قبول نہیں۔"

Watch Live Public News