آسٹریلیا: سابق جیل اہلکار خاتون نے فحش فلموں میں کام شروع کردیا

آسٹریلیا: سابق جیل اہلکار خاتون نے فحش فلموں میں کام شروع کردیا
کیپشن: آسٹریلیا: سابق جیل اہلکار خاتون نے فحش فلموں میں کام شروع کردیا

ویب ڈیسک: آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ سے تعلق رکھنے والی سابق جیل اہلکار ایلیشا ڈیوس نےمالی طور پر خوشحال ہونے کیلئے اونلی فینز نامی فحش ویب سائٹ جوائن کرلی۔ تاہم انہیں ابھی بھی اپنے ماضی کی وجہ سے مشکلات کا سامنے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

نیوزڈاٹ کام ڈاٹ اےیو کی رپورٹ کے مطابق 31 سالہ ایلیشا ایک مردوں کی درمیانے درجے کی سیکیورٹی والی جیل میں بطور اہلکار کام کرتی تھیں، جہاں ان کی آمدنی ہفتے میں تقریباً 1100 آسٹریلین ڈالر تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جیل میں کام کرنا ایک اعصابی امتحان تھا، لیکن قیدی ان کا احترام کرتے تھے۔

"اکثر قیدی خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے، لیکن کبھی کبھار کوئی قیدی اپنے ساتھیوں کے سامنے دکھاوا کرنے کی کوشش کرتا۔ تاہم میں انہیں قصوروار نہیں ٹھہراتی لیکن ایک خاتون جیل اہلکار ہونے کے ناطے اپنی جگہ قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔"

نیا کیریئر اور ماضی کی وجہ سے مشکلات:

جب انہوں نے فحش فلموں کے کیریئر کا آغاز کیا تو جیل کی ملازمت چھوڑ دی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ دونوں کام بیک وقت کرنا "انتہائی غیر مناسب" ہو گا۔

اب وہ آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی کے ذریعے ہفتے میں 10 ہزار ڈالر سے زائد کما لیتی ہیں، لیکن انہیں اکثر سابق قیدیوں کی طرف سے رابطوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انہیں انٹرنیٹ پر تلاش کر لیتے ہیں۔

"اگر کبھی کوئی سابق قیدی رابطہ کرتا ہے، تو میرا جواب فوراً ’نہیں‘ ہوتا ہے۔ میں بات کیے بغیر ہی انہیں بلاک کر دیتی ہوں۔"

ایک بار ایک صارف نے ان سے ذاتی ویڈیو کی فرمائش کی، جو وہ کرنے کو تیار تھیں، لیکن پھر اس شخص نے انکشاف کیا کہ وہ ابھی اسی جیل سے رہا ہوا ہے جہاں وہ کام کرتی تھیں۔ 

پھر اس نے ایلیشا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پرانی جیل والی وردی پہن کر ویڈیو بنائیں — لیکن ایلیشا نے اسے سختی سے رد کر دیا۔

"مجھے اپنی پرانی ملازمت اور اس کے وقار سے بہت محبت ہے۔ اس طرح کی فرمائش میرے اصولوں کے خلاف ہے۔"

سابق ساتھی اہلکار؟ کوئی اعتراض نہیں!

جہاں سابق قیدیوں کے لیے ایلیشا سخت رویہ اپناتی ہیں، وہیں سابق کولیگز کی موجودگی انہیں بالکل بھی ناگوار نہیں لگتی۔

"میرے کم از کم پانچ پرانے ساتھی میری پروفائل پر آ چکے ہیں۔ وہ کبھی کبھار مواد خریدتے ہیں اور ہم کبھی کبھار بات بھی کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنا نام چھپا کر آتے ہیں، پھر بعد میں بتاتے ہیں کہ وہ کون ہیں، لیکن مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"

Watch Live Public News