ویب ڈیسک: بیجنگ میں انسانوں اور روبوٹس کے درمیان منعقدہ میراتھن ریس میں انسانوں نے بازی مار لی اور روبوٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ دلچسپ مقابلہ ہفتے کے روز بیجنگ کے علاقے ییزوانگ میں منعقد ہوا، جس میں دونوں فریقوں نے 21 کلومیٹر کے طویل فاصلے پر مشتمل ریس میں حصہ لیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق، اس میراتھن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے لیس روبوٹس نے بھی انسانوں کے ساتھ حصہ لیا، لیکن وہ مؤثر انداز میں دوڑنے میں ناکام رہے۔ بعض روبوٹس تو گن فائر کی آواز کے ساتھ ہی زمین پر گر گئے اور انہیں دوبارہ کھڑا ہونے میں خاصا وقت لگا۔اسی طرح ایک روبوٹ محض چند میٹر دوڑنے کے بعد گرپڑا۔
اس کے برعکس، انسانوں نے نہ صرف بھرپور انداز میں حصہ لیا بلکہ روبوٹس کے مقابلے میں کم وقت میں اپنا ہدف مکمل کر لیا۔
بیجنگ انوویشن سینٹر آف ہیومن روبوٹکس کی جانب سے تیار کردہ تیانگونگ الٹرا نامی روبوٹ نے 21 کلومیٹر کا فاصلہ 2 گھنٹے 40 منٹ میں طے کیا، جبکہ مردوں کی کیٹیگری کے فاتح نے یہ فاصلہ اس سے ایک گھنٹہ سے زائد وقت پہلے مکمل کیا۔
ماہرین کی رائے:
اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی میں روبوٹکس کے پروفیسر ایلن فرن نے کہا کہ یہ مقابلے دلچسپ ضرور ہیں، مگر موجودہ روبوٹس بنیادی ذہانت اور جسمانی توازن کے لحاظ سے ابھی انسانوں کے برابر نہیں پہنچے۔
دوسری جانب، ایک چینی AI انجینئر ہی سیشو نے ریس میں شامل روبوٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ روبوٹس کی ترقی کے سفر کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ روبوٹس مکمل خودمختار نہیں تھے کیونکہ ہر روبوٹ کے ساتھ انجینئرز کی ایک ٹیم تھی۔
اس میراتھن میں شامل روبوٹس کو چینی ٹیکنالوجی فرموں DroidVP اور Noetix Robotics نے خصوصی دستانے اور ہیڈ بینڈز فراہم کیے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تقریب کو میراتھن سے زیادہ کسی "موٹر اسپورٹس" ایونٹ سے تشبیہ دینا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ روبوٹس کی کارکردگی میں اب بھی بہتری کی گنجائش باقی ہے۔
یہ مقابلہ ٹیکنالوجی اور انسان کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک دلچسپ مثال ہے، جو مستقبل میں روبوٹس کی ممکنہ صلاحیتوں کا اندازہ لگانے میں مدد فراہم کرے گا۔