(ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں یا نہیں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا، پیج ایک بھی ہو سکتا ہے لیکن دال میں کچھ تو کالا ہے۔
بلاول بھٹوزرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سے ملاقات کی ہے،ہم چاھتے ہیں پارلیمان فعال ہو جائے ، اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا قانون سازی کمیٹی سے بائیکاٹ کریں گے ،ہم نے اپوزیشن سے کہا ہے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو الیکشن پراسس پر شکایات ہیں وفاقی حکومت کے اتحادیوں کو شکایات ہیں ، اپوزیشن جماعتیں الیکشن پراسس پر ایک موقف اختیار کیا،پارلیمان کوتو بہت سے خطرات ہو سکتے ہیں،باہر کے خطرے اپنی جگہ ہیں ۔مین اندرونی خطرات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، اپوزیشن کی تمام جماعتیں کم از پارلیمان میں الیکٹورل ریفارمز پر اپنا کردار ادا کریں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے،یہ نہیں کہ میں اتحادی بنچ پر بیٹھا ہوں اور مجھے اپنے کارکن کی لاش اٹھانی پڑے،آج جو میرا اٹرایکشن ہوا اپوزیشن لیڈرز سے یہ ایک اچھا آغاز ہے،ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے ادارے پارلیمان کی کمیٹیاں کام کرنا شروع کر دیں،اس وقت ایک ایسا عجیب دور ہے کہ چاہے اپوزیشن میں ہوں یا اتحاد میں سب کی شکایات ہیں الیکشن پروسس پر۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اتحادیوں کے درمیان الیکشن ہو رہے ہیں، اپوزیشن کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی ہے،میں چاھتا ہوں سیاسی جماعتیں ایک ساتھ ہوں،اٹھائیس ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی،نئے صوبے کی بات ہے پیپلز پارٹی واضح بات کی ہے،نئے صوبوں سے متعلق عوام کے ساتھ کھڑے ہونگے،پیپلز پارٹی زور زبردستی کی بات نہیں مانے گی،جن پر اتفاق رائے موجود وہاں صوبے کی حمایت کریں گے،جہاں اتفاق رائے موجود نہیں ہے وہاں صوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ صحت کے حوالے سے کسی قیدی کو شکایت ہے تو حکومت کو خود علاج کرانا چاھیے تھا،بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہونا چاہئے، حکومت کو خود ہی یہ کام کر لینا چاہئے تھا۔