تسمانیہ: ساحل پر پھنسی 90 وہیلز کو مارنے کا فیصلہ

تسمانیہ: ساحل پر پھنسی 90 وہیلز کو مارنے کا فیصلہ
کیپشن: تسمانیہ: ساحل پر پھنسی 90 وہیلز کو مارنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: (علی زیدی)آسٹریلوی جنگلی حیات کے افسران نے تسمانیہ کے ایک دوردراز ساحل پر پھنس جانے والی 90 وہیلز کو مارنے کا مشکل فیصلہ کرلیا ہے۔ جس کی وجہ وہیلز کا دوبارہ تیر نہ پانا بتایا جارہا ہے۔ 

تسمانیہ کے قدرتی وسائل اور ماحولیات کے محکمہ کے مطابق منگل کو رات گئے جزیرے کے مغربی ساحل پر دریائے آرتھر کے قریب 150 سے زائد وہیلز پھنس جانے کی اطلاع ملی تھی۔ 

تاہم بدھ کی صبح تک صرف 90 ہی زندہ بچ پائیں اور امداری کارکنوں نے جب 2 وہیلز کو واپس سمندر میں چھوڑنے کی کوشش کی تو تیزلہروں کی وجہ سے وہ واپس ساحل پر آگئیں۔ 

واقعات کی روک تھام کے محکمے تسمانیہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف سروس کی کنٹرولر شیلی گراہم نے بتایا کہ سمندر اس وقت بپھرا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے وہیلز تیز لہروں کو پار کرکے سمندر میں جانے کی بجائے واپس ساحل پر آرہی ہیں۔ 

فضائی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ مچھلیاں ساحل سمندر کی ریت میں آدھی سے زائد دبی ہوئی ہیں۔ جب کہ کچھ پتھریلے پانیوں کے نزدیک پھنسی ہوئی ہیں۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل آخری بار جون 1974 میں تسمانیہ کے شمالی ساحل پر دریائے بلیک  میں 160 سے 170 وہیلز پھنسی تھیں۔ تاہم ان میں سے کتنی زندہ بچ پائیں یہ واضح نہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ وہیلز کو مارنے کا فیصلہ ان کی تکالیف کو کم کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے کیونکہ ساحل پر کئی گھنٹے گزارنے کے بعد وہ خود کو پریشان اور نڈھال محسوس کررہی ہیں۔ 

اس سے قبل وہیلز کو پانی میں چھوڑنے کیلئے مشینری کا استعمال بھی کیا گیا۔ جس کیلئے وہیلز کو پہلے غیرآباد علاقے میں منتقل کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ عوام کو حفاظت کی غرض سے ساحل سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی کیونکہ وہیلز کا وزن 500 کلوگرام سے 3 ٹن تک ہوتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں۔ 

واضح رہے کہ تسمانیہ میں وہیلز مچھلی کو تحفظ حاصل ہے اور یہاں تک کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کیساتھ کسی قسم کی مداخلت بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ 

ماہرین کا ماننا ہے کہ وہیلز کی پانی سے باہر زندگی کی امید صرف 6 گھنٹے تک کی جاتی ہے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر