ویب ڈیسک: اسرائیل کے لیے سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ڈان شپیرو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ صدارت میں اسرائیل میں امریکا کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف انتہائی سخت اقدامات متوقع ہیں، جن میں ایرانی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش بھی شامل ہو سکتی ہے۔
سابق امریکی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے تشدد، مظاہروں اور قتل و غارت گری میں امریکی صدر ملوث ہیں۔
Trump's comments to @politico on needing new leadership in Iran, and Khamenei's mindless baiting of Trump on X, lead me to believe that Trump is going to try to kill the Supreme Leader this week.
— Dan Shapiro (@DanielBShapiro) January 17, 2026
There will soon be a US carrier strike group in the Middle East, making it easier…
ڈان شپیرو نے آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق مزید کہا کہ وہ اس وقت 86 برس کے ہو چکے ہیں اور شدید علیل ہیں، لہٰذا ایران کو موجودہ حالات میں نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ڈان شپیرو نے کہا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہوگا، جو ایران پر ممکنہ حملے کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایرانی ردِعمل کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
سابق امریکی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا آئندہ دنوں میں ایرانی فورسز پر مزید حملے بھی کر سکتا ہے۔