بلوچستان حکومت نے ہنگلاج ما تا مندر کو عالمی سیاحتی مقام قرار دے دیا

بلوچستان حکومت نے ہنگلاج ما تا مندر کو عالمی سیاحتی مقام قرار دے دیا

(ویب ڈیسک ) بلوچستان حکومت کی جانب سے  ہنگلاج ما تا مندر کو عالمی سیاحتی مقام قرار دے دیا ۔

منظر مذہبی رواداری  کا مظاہرہ کرتے ہوئے   پاکستان  بالخصوص حکومت بلوچستان نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت مقدیم ہنگلاج ما تا مندر کو باضابطہ طور پر عالمی سیاحتی معتام قرار دیا گیا ہے۔

 بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع یہ مقدس ہند و زیارت گاہ اب نہ صرف لاکھوں عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز ہے، بلکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی شناخت کی علامت بھی بن چکی ہے۔ ایک ایسی شناخت جو تنوع کا جشن مناتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور تکثیریت کو فروغ دیتی ہے۔

 یہ جرات مندانہ اور جامع ا اقدام  وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں اور سینیٹر دنیس کمار کی حمایت سے ممکن ہوا  اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کسی اقلیتی مذہبی معتام کو عالمی سیاحتی مقام کا درجہ دیا گیا ہے۔ 

اس منصوبے کے لیے آئندہ بجٹ میں بحالی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور زائرین کی سہولیات کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے سے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ   پاکستان ایک ایسی سر زمین ہے جہاں تمام مذاہب کو پنپنے کا موقع ملتا ہے، ثقافتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اتحاد یا ہی احترام پر قائم ہے۔

ہنگلاج ما تا مندر ہر سال لاکھوں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔مندر بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ہنگول نیشنل پارک میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا اقلیتی مذہبی معتام ہے جسے عالمی سیاحتی درجہ دیا گیا ہے۔ زائرین پاکستان سمیت 10 سے زائد ممالک (خصوصا بھارت اور خلیجی ممالک) سے آتے ہیں۔

ہر سال منعقد ہونے والی ہنگلاج یا تر امیں 2.5 لاکھ سے زائد زائرین شرکت کرتے ہیں۔اس  اقدام سے آئندہ پانچ سالوں میں بلوچستان میں سیاحت میں 30 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔بلوچستان میں 50 سے زائد اقلیتی مذہبی و ثقافتی ورثے کے  مقاما ت موجود ہیں۔

ہندو برادری نے تاریخی حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہندو عقیدت مند مندر کی عالمی حیثیت پر خوش ہیں۔

Watch Live Public News