ویب ڈیسک: ایران کے زیرِ زمین ایٹمی پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں میں سے ایک جسے اب تک استعمال نہیں کیا گیا ہے وہ جی بی یو-57 اے/بی میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر ( ایم او پی) بم ہے۔
دنیا کا سب سے طاقتور غیر جوہری ’ بنکر شکن‘ بم صرف امریکہ کی ملکیت ہے اور اسرائیل بھی اسے حاصل نہیں کر سکا ہے، 30 ہزار پاؤنڈ یا 13,600 کلو گرام وزنی یہ بم شاید پہاڑ کے نیچے بنے ایران کے فرودو ایٹمی پلانٹ کے مرکز کو نقصان پہنچا پائے۔ لیکن امریکہ نے اب تک اسرائیل کو بھی اس بم تک رسائی نہیں دی ہے۔

امریکی حکومت کے مطابق ایم پی او ایک ایسا ہتھیار ہے جو زیر زمین گہرائی میں بنے مضبوط بنکرز اور سرنگوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ چھ میٹر لمبا یہ ہتھیار زمین میں 200 فٹ کی گہرائی تک مار کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ گہرائی تک نقصان پہنچانے کے لیے ان بموں کو یکے بعد دیگرے پھینکا جا سکتا ہے۔

یہ بم بوئنگ کمپنی نے تیار کیا ہے۔ لیکن اس بم کو کبھی میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم امریکی ریاست نیو میکسیکو میں واقع وائٹ سینڈس میرائل رینج میں اس کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔

برطانیہ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی میں پیس سٹڈیز کے پروفیسر پال راجرز کہتے ہیں کہ امریکی فضائیہ نے ایم او اے بی جیسا بڑے سائز کا بم تیار کرنے میں کافی محنت کی ہے۔
فی الحال سٹیلتھ بمبار کے نام سے مشہور امریکی بی-2 سپرٹ طیارہ ہی یہ بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے نارتھروپ گرومن کمپنی نے تیار کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق، بی-2 بمبار طیارہ 40 ہزار پاؤنڈ (18 ہزار کلو گرام) کا پے لوڈ لے جا سکتا ہے، امریکی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طیارے میں بیک وقت دو ایم او پی لے جانے کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں جن کا مجموعی وزن 60 ہزار پاؤنڈ (27,200 کلو گرام) بنتا ہے۔
ایک کے اندازے کے مطابق امریکہ کے پاس ایم او پی بموں کا محدود ذخیرہ ہے۔ پروفیسر راجر کے مطابق، امریکہ کے پاس ایسے 10 سے 20 آپریشنل بم ہوں گے۔
