کرپشن کے الزامات: میئراستنبول گرفتار،انٹرنیٹ سروس معطل

کرپشن کے الزامات: میئراستنبول گرفتار،انٹرنیٹ سروس معطل
کیپشن: کرپشن کے الزامات: میئراستنبول گرفتار،انٹرنیٹ سروس معطل

ویب ڈیسک: ترکیہ کی پولیس نے بدھ کو استنبول کے میئر اکریم امام اوغلو کو مبینہ بدعنوانی اور شدت پسندی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔

سرکاری انادولو ایجنسی کے مطابق استغاثہ نے میئر اکریم امام اوغلو اور تقریباً 100 دیگر افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ حراست میں لیے گئے افراد میں امام اوغلو کے قریبی معاون مرات اونگون بھی شامل ہیں۔

صبح سویرے امام مرات اونگون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

دوسری جانب امام اوغلو نے ’ ایکس‘ پر لکھا کہ ان کے گھر کے سامنے سینکڑوں پولیس اہلکار موجود ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکیں گے نہیں بلکہ ثابت قدم رہیں گے۔

براڈکاسٹر سی این این ترک کی لائیو فوٹیج کے مطابق امام اوغلو کے گھر کے سامنے فسادات کنٹرول کرنے والی پولیس کے درجنوں اہلکار تعینات تھے۔ سی این این ترک نے مزید بتایا کہ پولیس فورسز ان کے گھر کی تلاشی لے رہی ہیں، جو کہ ایک جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔

ترک حکام نے استنبول میں متعدد سڑکیں بند کر دی ہیں اور چار دن کے لیے شہر میں مظاہروں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکام نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک تک بھی رسائی محدود کر دی۔

اکریم امام اوغلو کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز ترکی کی ایک یونیورسٹی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی ڈگری جعلی طور پر حاصل کی۔

اکریم امام اوغلو کے خلاف یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں، جب ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت جمہوریہ خلق پارٹی (سی ایچ پی) چند دن بعد اپنا پرائمری الیکشن منعقد کرنے والی ہے، جہاں امام اوغلو کو صدارتی امیدوار کے طور پر منتخب کیے جانے کی توقع تھی۔ اگلا صدارتی انتخاب 2028 میں ہونا ہے، تاہم قبل از وقت انتخابات کے امکانات موجود ہیں۔

Watch Live Public News