پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھارت کیلئے دردسر بن گیا

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھارت کیلئے دردسر بن گیا
کیپشن: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھارت کیلئے دردسر بن گیا

ویب ڈیسک: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے بھارت میں نئی اسٹریٹجک تشویش پیدا کردی ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں کسی مسلح تنازع کی صورت میں سعودی عرب بھی معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 کی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران پاکستان کو چین اور ترکیہ کی مختلف نوعیت کی معاونت حاصل رہی۔ بھارتی حکام نے اس وقت ترکیہ کی جانب سے پاکستان کو ڈرونز سمیت عسکری معاونت فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

تجزیے کے مطابق سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں، تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون موجود ہے۔

رپورٹ میں پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول شامل ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دینے کا حوالہ بھی بھارتی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق موجودہ معاہدہ نیٹو کی طرز کا مکمل فوجی اتحاد نہیں، کیونکہ اس میں مشترکہ فوجی کمان اور اجتماعی کارروائی کا واضح طریقہ کار موجود نہیں۔  تاہم اس کے عملی طور پر مضبوط ہونے کی صورت میں پاکستان کے ساتھ کسی مستقبل کے تنازع میں بھارت کے لیے سفارتی اور عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

Watch Live Public News